خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۱۲ 32 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء طاقت رکھتے ہیں وہ سیاستدان کے کسی کام کے نہیں رہتے ، وہ سارے گندے انڈوں کی طرح ایک طرف پھینک دئے جاتے ہیں اور پھر سیاست کی نظر میں وہ صالح انڈے باہر نکالے جاتے ہیں جن میں سے ہر انڈا گندا اور بد بودار ہے جو زہر سے بھرا ہوا ہے اور ان مذہبی رہنماؤں سے آشنائی کی جاتی ہے جو مغلظات بکتے ، ہر طرف گند پھینکتے ظلم کی تعلیم دیتے اور محبتوں کو مٹاتے اور نفرتوں کو اجاگر کرنے والے مذہبی لوگ یہ پھر سیاستدان کے قریبی اور دوست بن جاتے ہیں، دونوں طرف ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی مذہبی دنیا میں بعض اصول جاری کرنے کی ضرورت ہے ، جس طرح سیاست میں عدل کے تصور کو اپنانے کے بعد اور اس اصول کو پکڑنے کے بعد پھر مسائل حل ہو سکتے ہیں اسی طرح مذہبی امور میں بھی بعض بنیادی اصولی فیصلے کرنے ہوں گے، ایک فیصلہ تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے مذہب کو اپنی سیاست پر حکمران نہیں بنائیں گے۔یہ جو مضمون ہے یہ میں تفصیل سے سمجھا تا ہوں مذہبی اقدار کو، مذہبی اخلاق کو سیاست پر حاکم کرنا ضروری ہے لیکن مذہبی نظریات کو اگر سیاست پر حاوی کریں گے تو دونوں جگہ مختلف قسم کی متقابل حکومتیں وجود میں آئیں گی اگر پاکستان میں مثلاً ایسی حکومت جسے وہ اسلامی کہتے ہیں لیکن جس کا تصور ابھی تک واضح ہو کر کسی مولوی کے دماغ میں بھی آج تک نہیں ابھرا لیکن نعرہ موجود ہے۔پس میں اس نعرے کے حوالے سے کہتا ہوں کہ جسے وہ اسلامی حکومت کہتے ہیں اگر وہ ، وہ حکومت نافذ کریں تو جہاں تک میں نے ان کے اسلامی تصور کا مطالعہ کیا ہے وہ عدل سے عاری ہے وہ یکطرفہ ہے اس کا نعرہ ہی یہی ہے کہ اس ملک میں اول شہری مسلمان ہوگا اور ہر دوسرے شہری کے کوئی حقوق نہیں ہوں گے۔مسلمان کے تابع ہوں گے۔یہاں تک کہ مسلمان کے مقابل پر اس کی گواہی بھی نہیں سنی جائے گی۔اس قسم کا خوفناک مذہبی نظام جاری کرنے کا تصور مولویوں کے دل میں ہے اگر اس تصور کو قبول کر لیں اور سیاست کو مذہب کے تابع کر لیں تو اس کے برعکس ہندوستان میں بھی یہ حق ہوگا اور ایک طبعی انسانی حق ہوگا کہ وہ ہند و تصور کو وہاں نافذ کریں پس اگر ہندوستان میں ہندو مذہبی تصور قانون کا حصہ بن جائے یا قانون پر حکومت کرنے لگے اور پاکستان میں مسلمانوں کا موجودہ اسلامی تصور پاکستان کا حکمران ہو جائے تو ناممکن ہے کہ قیامت تک ان دونوں قوموں میں صلح ہو سکے پھر تو دونوں طرف خون کی ہولیاں کھیلی جائیں گی اور ایک دوسرے سے نفرت ہمیشہ بڑھتی ہی چلی جائے گی اور سیاسی اصلاح ایک کوڑی کے کام کی بھی نہیں رہے گی اس لئے