خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد ۱۲ 354 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء تو اس کے نتیجہ میں جو اولاد ہے اس کو ہم ناجائز اولاد کہتے ہیں۔اگر ہر سال کسی ملک کا تیسرا حصہ بچے ناجائز اولا د بن رہے ہوں تو تین سال چار پانچ سال دس سال کے اندراندازہ یہ لگایا جا سکتا ہے کہ ساری قوم کا خون ایک دفعہ گندا ہو چکا ہے اور یہ کئی بار ہو چکا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے ایک پہلو تو یہ ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔عفت اور عصمت کی طرف آپ کو امریکہ میں خصوصیت کے ساتھ واپس آنا ہوگا اور اس کے لئے بہت وسیع جد و جہد کرنی ہوگی۔ایسی جدو جہد جو جماعتی حدود کے اندر محدود نہ رہے بلکہ اچھل کر باہر سوسائٹی میں نکلے انصار اللہ کے لئے ایک بہت اچھا موقع ہے کیونکہ خدام اس قسم کی جدو جہد اگر شروع کریں تو ان کے اپنے لئے خطرات لاحق ہیں۔کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں۔جہاں عورتوں کو بھی سمجھانا پڑتا ہے ماں باپ کے پاس جانا پڑتا ہے ایک مہم چلانی ہے جس میں تعلقات اس نوعیت کے ہیں کہ بڑی عمر کے لوگ زیادہ بہتر رنگ میں اس مہم کو چلا سکتے ہیں اس لئے انصار اللہ کو میرا دوسرا پیغام یہ ہے کہ یہ بات جس کی نشان دہی میں نے کی ہے اس سوراخ سے ساری اعلیٰ قدروں کو خطرہ ہے کیونکہ یہ دراصل اس بات کا پیغام ہے کہ آپ کی اگلی نسل کو کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں رہی اور ان کی زندگی خالصہ لذت طلبی کے لئے وقف ہوگئی ہے اور اتنازیادہ آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو کسی بات کا خوف نہیں رہا، کوئی ذمہ داری نہیں رہی ، کوئی جواب دہی نہیں ہے جو چاہیں کریں اور معاشرہ اس کو قبول کرلے گا۔ایسی صورت میں آئندہ کی ساری نسلوں کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ Single parents ایک والد یا والدہ بچوں کی دیکھ بھال کرے اور ناجائز اولاد کی صورت میں محض والدہ کے سپر د ہو جاتا ہے اور اس نے ہی اس کی دیکھ بھال کرنی ہے اور جیسی حالت میں وہ پیدا ہوا ہے وہ ماں اس کو اخلاقی تعلیم دے بھی نہیں سکتی۔وہ اس عصمت کی طرف بلا ہی نہیں سکتی اور ایسے بچے شروع ہی سے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیں۔یہاں ضمناً میں آپ کو یہ بات بھی بتادوں کہ جہاں تک میں نے قرآن کریم کا یا سنت کا مطالعہ کیا ہے حق کے لحاظ سے خدا کی نظر میں اور اسلام کی نظر میں ہر بچہ برابر ہے اور معاشرہ اس کو اس کے بنیادی انسانی حق سے اس لئے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ ناجائز اولاد ہے۔ناجائز کا تعلق ماں باپ سے ہے، ناجائز کا تعلق اس معاشرے اور سوسائٹی سے ہے جس نے وہ ناجائز کام سامنے ہونے دیا ہے لیکن جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ بے قصور ہے کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا