خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد ۱۲ 353 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو مغرب میں عام ہوتی جارہی ہیں لیکن امریکہ میں وہ بنتی ہیں اور وہیں سے اکثر باقی دنیا کو وہ برآمد کی جاتی ہیں ان میں ایک Pregnancy and Birth out of Wedlock ہے اس کو میں نے انگریزی میں بیان کیا ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے بچے پیدا ہونا جن کو مذہبی قانون کی طرف سے پیدا ہونے کا کوئی حق نہیں ہے میں نے مذہبی قانون اس لئے کہا ہے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں خواہ ان کا تعلق خدا سے ٹوٹ بھی چکا ہو وہ بھی جب با قاعدہ اپنی شادی بیاہ کی رسوم کے مطابق میاں بیوی کو ملاتے ہیں تو ہر مذہب کی رو سے وہ بچے جائز ہیں اور ان کا حق ہے۔پس خواہ وہ خدا سے بے تعلق بھی ہو چکے ہوں یہ اللہ کی رحمت عامہ ہے کہ اس نے یہ حق ساری دنیا کے مذاہب کو یا رواجات کو یا قوانین کو دے رکھا ہے مذاہب کے علاوہ بھی وہ تمام رواج ، تمام قوانین ، تمام رسمیں، جن کی رو سے مرد اور عورت کو میاں بیوی قرار دیا جاتا ہے اس کے بعد جو بھی اولاد پیدا ہوتی ہے مذہب کی نظر میں یعنی خدا کی نظر میں وہ جائز اور درست ہے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ اسلامی طریق پر شادی ہو یا کسی ہندوانہ طریق پر مذہبی بنیادی قانون جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے یہی ہے کہ ہر قوم میں اپنے رسم ورواج کے مطابق جو شادیاں ہوتی ہیں ان کی اولاد درست ہے، اولا د درست سے مراد یہ ہے کہ اولاد کا پیدا ہونا ایک تسلیم شدہ قانون حق ہے۔امریکہ ایک وہ ملک ہے جہاں بدنصیبی سے اس حق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ہو رہی ہے ایک موقع پر میں نے اعداد وشمار پڑھے تو میں حیران رہ گیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ واقعۂ طبیعت لرز اٹھی کہ ان اعداد و شمار کی رو سے امریکہ میں ہر سال پیدا ہونے والے بچوں میں ۳۳ فیصد ناجائز بچے ہیں یعنی کسی قانون کی رو سے بھی ان کو پیدا ہونے کا حق نہیں ملتا خواہ وہ ریڈ انڈین کا قانون ہو یا عیسائیت کا ہو کوئی بھی ہو۔دنیا کا قانون ہو تو ان کو گویا کسی مذہب نے کسی رواج نے کسی قانون نے دنیا میں آنے کا کوئی حق نہیں دیا اور یہ بد رسم اب امریکہ میں ایک وبا کی صورت میں چل پڑی ہے اور اس کو کوئی جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔سوال یہ ہے کہ اگر جرم نہ سمجھا جائے تو کیا یہ بچے جائز ہوں گے۔جہاں تک رسم و رواج کا تعلق ہے خدا نے آزادی دی ہے۔ان کی رو سے خواہ وہ کیسے ہی رسم ورواج ہوں جب بھی شادی ہو گی وہ جائز اولاد ہوگی لیکن اگر کسی رسم ورواج کی پیروی نہیں کی جارہی ،کھلی آزادی ہے یعنی لڑکا اور لڑکی آپس میں ایک ایسا تعلق قائم کرتے ہیں جس کو معاشرے نے تسلیم نہیں کیا