خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد ۱۲ 345 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء طرح بیٹھ جائے۔دو تین دن کے اندر سمٹ کرو ہیں جولانی دکھائے اور وہیں ختم ہو جائے تو ایسے ولولہ سے مستقل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر ایسے اجتماع کے وقت ہر فرد کو جو حصہ لے رہا ہو اس کو کچھ نہ کچھ فیصلے کرنے چاہئیں اور ان فیصلوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ہر اجتماع کے موقع پر ہر شخص اگر یہ سوچے کہ میں نے جولزت پائی تھی اسے ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے کیا طریق ہے تو ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان نمازوں میں با قاعدہ ہو جائے۔اجتماع کا نماز کے ساتھ جو ی تعلق ہے اس پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اگر اجتماع اللہ کی خاطر نہیں اور جو سرور آپ حاصل کر رہے ہیں وہ خدا کی خاطر نہیں تو اس اجتماع کا ولولہ ایک جھوٹا ولولہ ہے اس کو زندہ رکھنے کی ضرورت بھی کوئی نہیں ایسے اجتماع کا ولولہ تو ہر میلے پر پیدا ہوتا ہے بلکہ بعض میلوں پر جانے والے جانتے ہیں کہ ان کو دینی اجتماعات کے مقابل پر میلوں میں شامل ہونے کا بہت زیادہ مزا آ رہا ہے۔پس سب سے پہلے میری نصیحت یہ ہے کہ اپنے اس ولولے کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ آپ کو خدا کے قرب کی وجہ سے لذت آئی تھی ، نیکیوں کے قریب ہونے کے نتیجہ میں لذت ملی تھی یا محض اس لئے کہ ایک ہنگامہ تھا ایک رونق تھی ، اچھی نظمیں پڑھی گئیں۔اچھی تقریریں ہوئیں اور ایک ذہنی لطف اٹھا کر آپ اپنے گھروں کو واپس لوٹے اگر قرب الہی کا احساس ہے اگر یہ احساس ہے کہ نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر دن رات نیکی کی باتیں کر کے بہت مزا آیا ہے تو پھر لازماً اس جذبہ کی حفاظت ہونی چاہئے اور یہ حفاظت نماز کر سکتی ہے اور کوئی چیز نہیں کر سکتی کیونکہ نماز میں روزانہ پانچ دفعہ آپ کو بار بار ان ولولوں کا اعادہ کرنا ہوتا ہے، پانچ مرتبہ خدا کے حضور حاضر ہونا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنا ہوتا ہے، ان تعلقات کو دن بدن بہتر بناتے چلے جانا ہے اگر ایسا ہو تو نمازیں زندہ رہتی ہیں۔ایک معنی حفاظت کا یہ بھی ہے کیونکہ حفاظت کا شعور اور توجہ سے گہرا تعلق ہے ،غفلت اگر ہوتو حفاظت نہیں رہتی۔میر ازندگی بھر کا یہ تجربہ ہے کہ نمازوں میں اگر ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو نمازوں سے انسان پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ پانچ وقت کی نماز جہاں ایک نعمت ہے وہاں ایک پہلو سے اس میں ایک خطرہ بھی مضمر ہے جو چیز بار بار اسی طرح ویسے ہی