خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد ۱۲ 344 خطبہ جمعہ ۷رمئی ۱۹۹۳ء ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں روز بروز ترقی کر رہی ہیں چند سال پہلے تک دنیا بھر میں جماعتوں کی جو تعداد تھی اب اس سے تقریباً ڈیڑھ گنی ہو چکی ہے اور جماعتوں کے بڑھنے کے ساتھ اس قسم کی تقریبات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے پھر جماعتی تقریبات ہیں۔مجالس کی تقریبات ہیں جو انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ، اطفال الاحمدیہ وغیرہ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے شروع میں تو دلداری کی خاطر اور شوق بڑھانے کے لئے ان خواہشات کو ضرور پورا کرنا ہوگا۔آج مجلس انصار اللہ یوایس اے کی طرف سے یہ درخواست ملی ہے کہ کل یعنی ہفتہ کے روز سے ہمارا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے اور ساتھ ہی مجلس شوری بھی ہوگی اس موقع پر ہمارے لئے خصوصی پیغام دیں۔پہلا خصوصی پیغام تو یہی ہے کہ اللہ مبارک فرمائے اور کثرت کے ساتھ انصار کو اس میں شمولیت کی اور اس اجتماع سے استفادہ کی توفیق بخشے۔اجتماع میں شمولیت سے ایک رونق سی پیدا ہو جاتی ہے، دلوں میں ولولے سے اٹھتے ہیں اور انسان دو تین دن کے عرصہ میں ہی وقتا فوقتا بلکہ ساتھ بہ ساتھ ایمان میں ترقی کرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اجتماع کے دوران دلوں کی جو کیفیت ہوتی ہے اگر وہ سارا سال رہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت بہت تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان کیفیات کی حفاظت کیا کریں، یہ مقدس امانتیں ہیں جو آپ کو جماعتی اجتماعات کے موقع پر عطا ہوتی ہیں خواہ وہ جلسہ سالانہ ہو یا دیگر ذیلی تنظیموں کی تقریبات ہوں سب احمدیوں کا یہ تجربہ ہے کہ دلوں میں غیر معمولی طور پر ایک تموج پیدا ہو جاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو پہلے سے بہت زیادہ جماعت کے قریب پاتا ہے اور نیکیوں کے قریب پاتا ہے تو ان کی حفاظت کے لئے اس تموج کی حفاظت ضروری ہے۔بعض نیکیاں ایسی ہیں جو انسان کو سنبھال لیتی ہیں اور حفاظت کرتی ہیں، بعض نیکیاں ایسی ہیں جن کی حفاظت کرنی پڑتی ہے تب وہ حفاظت کرتی ہیں ایسی نیکیوں میں سے قرآن کریم نے نماز کی مثال دی ہے جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا که حفِظُوْا عَلَى الصَّلَواتِ (البقره: ۲۳۹) تم نماز کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ تم نماز کی حفاظت کرو اور نماز تمہاری حفاظت کر رہی ہو۔پس بہت سی ایسی نیکیاں ہیں جو حفاظت چاہتی ہیں اور مسلسل حفاظت چاہتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں آپ کو ان کی طرف سے بھی مسلسل حفاظت ملے گی اور اس کا آخری تعلق دل کے جذبہ سے ہے اور ولولہ سے ہے اگر ولولہ جھاگ کی طرح اٹھے اور جھاگ کی