خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 327
خطبات طاہر جلد ۱۲ 327 خطبہ جمعہ ۳۰/اپریل ۱۹۹۳ء چاہتے ہیں جیسی پہلی نسلوں کی ہم نے دیکھی اور پہلی نسلوں نے ہماری کرنے کی کوشش کی ، تو ایک مرکزی نصیحت کا نکتہ جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اس کو پلے باندھ لیں اور اس پر دل و جان سے عمل کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِذَا قَضَيْتُمُ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقره: ۲۰۱) کہ جب تم مناسک حج سے فارغ ہو جایا کرو تو فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُمْ پھر تم اللہ کا ویسے ہی ذکر کیا کرو جیسے تم اپنے اباء کا کرتے ہو او أَشَدَّ ذِكْرًا بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر ذکر۔حج کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسان خدا کی گود میں ہے اور ہر طرف سے نیکیوں نے اس کو گھیرا ہوتا ہے۔حج سے فارغ ہونے کے بعد پھر دنیا میں واپس لوٹتا ہے اور اس وقت خطرات در پیش ہوتے ہیں، ان خطرات سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ذکر الہی پر زور دو اسی طرح ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو۔جب ایک نسل جو صحابہ کی نسل ہے وہ گزر جاتی ہے تو اگلی نسل میں ایک قسم کا ویسا ہی ماحول پیدا ہوتا ہے جیسے حج سے باہر آگئے ہوں ، جیسے دوبارہ زمانے کے خطرات کے سامنے ان نسلوں کو پیش کر دیا گیا ہو۔اس وقت بھی یہی مضمون کارفرما ہوگا اور حفاظت کا یہی ایک طریق ہے جو کارآمد ثابت ہوسکتا ہے کہ ذکر میں پناہ لو۔ذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ کا مضمون سمجھنے کے لائق ہے۔دنیا میں جتنی قو میں ہیں وہ اپنی اعلیٰ روایات کی حفاظت اپنے قومی ہیروز اور بزرگوں کا ذکر کر کے کیا کرتی ہیں۔اگر قوموں کی تاریخ سے ان کے آباء کا ذکر مٹا دیا جائے اور فراموش کر دیا جائے تو وہ قومیں اپنی تمام روایات کو بھول کر اُن رستوں کو کھو دیں گی جن روایات پر چلتے ہوئے ان کے آباء نے بعض رستوں پر قدم مارے تھے اور ترقیات ان کو نصیب ہوئی تھیں۔پس ذکر کا مضمون آئندہ نسل کی تربیت کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق رکھتا ہے یہاں جو ذِكُرِكُمْ آبَاءَكُمْ فرمایا گیا ہے۔اس میں مثال تو دنیا کے ذکر کی دی ہے لیکن مذہبی تعلق میں نصیحت ہے اس لئے ہمیں ذکرِكُمْ آبَاءَكُمْ کی وہ تشریح کرنی ہوگی جو قرآنی آیات کے مطابق ہے اگر دنیا کی قوموں سے کہا جائے کہ تم اس طرح ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو تو اُن کے ذہن میں مختلف قومی ہیروا بھریں گے مگر جب مذہبی دنیا میں گفتگو ہو تو حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو مخاطب فرمایا گیا ہو اور آپ کے غلاموں کو مخاطب فرمایا گیا ہوتو