خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 269

خطبات طاہر جلد ۱۲ 269 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء اللہ تعالیٰ سے بعض دفعہ یہ عرض کر بیٹھتے ہیں کہ اے خدا یوں کر دے تو میں یوں کر دوں گا تو اللہ تعالیٰ اس طرح کرتا ہوا نہ بھی دکھائی دے تب بھی آپ اس طرح ضرور کریں جو آپ نے خدا کے حضور عاجزانہ منت مانگی تھی نیت کی تھی یا نیکی کا ایک مشروط وعدہ کیا تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو میں بالعموم یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ہاں غریب بچیوں کی شادی کروانے کو رواج دیں۔یہ کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس کے لئے چندے کی کوئی تحریک کر رہا ہوں۔میں صرف متوجہ کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرہ میں بہت سے ایسے غریب ہیں جن کی بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اور ان کے لئے شادی کے کوئی سامان نہیں ہوتے اور ماں باپ اس غم میں گھلتے ہیں اور کٹتے چلے جاتے ہیں اور دینی غیرت کا تقاضا ہے یا اپنی عزت نفس کا تقاضا ہے۔وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے۔خلیفہ وقت سے چونکہ بے تکلفی ہوتی ہے اس لئے ان میں سے بعض لکھ دیتے ہیں۔بہت سے نہیں بھی لکھتے ہوں گے مگر بہت سے ایسے ہیں جو بیچارے بغیر سامان کے بیٹھے ہیں اور ان کو دو سادہ جوڑے دے کر بھی بچی رخصت کرنے کی استطاعت نہیں ہے۔اس لئے میرے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ جماعت کے صرف معقول دوست ہی نہیں بلکہ درمیانی حیثیت کے دوست بھی اگر یہ نیت باندھ لیں کہ ہم اپنی بچیوں کی شادی پر جو خرچ کرتے ہیں یا اس کا دسواں حصہ یا پانچواں حصہ کسی غریب کی بچی پر خرچ کریں گے تو وہ روپیہ جماعت کو نہ دیں بلکہ اگر وہ تلاش کرنا چاہیں تو جماعت کے نظام کو مطلع کر دیں کہ ہماری نیت ہے کہ اس سال ایک شادی کروائیں گے ، دو کروائیں گے ، تین کروائیں گے اور ہماری توفیق کے مطابق اندازاً اتنا خرچ ہوگا تو آپ کے علم میں اگر ایسے غرباء ہوں تو بصیغہ راز ہمیں مطلع کر دیں اس میں راز رکھنا ضروری ہے اس لئے بہتر ہو کہ اس نظام کو امراء اور صدران اپنے ہاتھ میں رکھیں اور پھیلائیں نہیں۔پھر ان کے علم میں جو بھی خاندان ہوں ان کا ذکر مخفی طور پر ان خواہش مند دوستوں کے سامنے کر دیا جائے یا لکھ کر بھجوادیا جائے اور باقی پھر ان کو آپس میں ایک دوسرے سے تعلق استوار کرنے کا موقع دیا جائے۔جو لوگ بالکل مخفی ہاتھ سے یہ کام کرنا چاہیں وہ ان کو رقم بھجوا سکتے ہیں اور ان کے سامنے نہ آنا چاہیں تو نہ آئیں اور وہ لوگ جو دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ اس نیکی کا لطف اٹھانے کے لئے اور اس سے مزید نیکیوں کی روح حاصل کرنے کی خاطر ان سے ذاتی تعلق قائم کر کے پھر مخفی ہاتھ سے ان کی مدد کرتے