خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد ۱۲ 268 خطبہ جمعہ ۲ را پریل ۱۹۹۳ء ہے اور وہ یہ بات ہے کہ آج سے ایک سال پہلے میری اہلیہ کا انتقال ہوا۔اس ضمن میں کچھ نصیحتیں میں نے اس دن بھی جماعت کو کی تھیں اور ایک نصیحت آج بھی کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے مجھ سے بیماری کے آخری ایام میں یہ ذکر کیا کہ اگر خدا اسے توفیق دے تو میری خواہش ہے کہ میں اپنی بچیوں کی شادی دیکھ سکوں۔تو میں خدا کی خاطر بعض غریب بچیوں کی شادی کراؤں گی۔میں نے ان کی زندگی ہی میں ان کی اس نیت کو پورا کر دیا اور ان کو بتا دیا کہ تم ایک بچی کی کہہ رہی ہو میں چار کی کروا بیٹھا ہوں اور آئندہ بھی تمہاری خاطر تمہاری تمنا کو پورا کرتے ہوئے شادیاں کرواتا رہوں گا۔اس میں دو فصیحتیں ہیں جو میں جماعت کو کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی منت مانگیں کسی شرط کے ساتھ کوئی دعا کریں کہ اے خدا! تو یوں کر دے گا تو ہم یوں کریں گے تو کبھی یہ نہ کریں کہ خدا بظاہران کی دعا کو قبول نہ کرے تو وہ اپنی منت سے پیچھے ہٹ جائیں۔یہ ایک بے ادبی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک قسم کی ناشکری ہے۔اللہ تعالیٰ نے بچپن سے مجھے یہ گر سمجھائے رکھا ہے کہ جب بھی منت مانگو تو اگر خدا تمہیں بظاہر اس دعا کو قبول کرتا ہوا نہ بھی دکھائی دے تب بھی اس منت کو ضرور پورا کر دو۔یہ خدا سے حسن خلق میں آگے بڑھنے والی بات نہیں حقیقت میں خدا کے پیچھے چلنے والی بات ہے کیونکہ جو لوگ دعا کی حقیقت سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جو دعائیں بظاہر نامقبول ہوتی ہیں خدا بُھولتا نہیں ہے۔کسی حکمت کے پیش نظر بندے کی دعا قبول نہیں بھی فرما تا تو بعد میں اس دعا کے بدلے سو طرح سے اور چیزیں قبول فرماتا چلا جاتا ہے اور احسانات کا سلسلہ ترک نہیں فرماتا اور بعض دفعہ کچھ عرصہ کے بعد انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ دعا کا اس طرح مقبول نہ ہونا بھی ایک رحمت تھی اور اگر انسان بار یک نظر سے اللہ تعالیٰ کے نشانات کا تتبع کرے ان کے تجسس میں رہے تو اسے بار ہا اس دعا کے تعلق میں خدا کا غیب کا ہاتھ احسانات کرتا ہوا دکھائی دے گا۔پس اس مضمون کو سمجھنے کے نتیجہ میں مجھے کبھی بھی اس بات میں تر ڈ نہیں ہوا کہ بظاہر منت کی وہ شرط پوری نہیں ہوئی اسی لئے منت پوری نہ کی جائے بلکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ خدا نے تو وہ پورا کرنا ہی کرنا ہے ہم نہ پیچھے رہ جائیں۔اس لئے اللہ سے نیکی کا جو وعدہ کر لیا جائے وہ مشروط نہیں رہنا چاہئے وہ ضرور پورا ہونا چاہئے اور اس کے نتیجہ میں اللہ پھر مزید احسان فرماتا ہے۔پس ایک تو یہ نکتہ سمجھانا مقصود تھا کہ آپ بھی اپنی مصیبتوں میں یا مشکلات میں یا ویسے اپنی تمناؤں کی طلب میں