خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد ۱۲ 246 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء نمونے دیکھیں اور گھر معاشرے کا مرکز ہو نہ کہ بیرونی معاشرہ گھروں کا مرکز بن جائے۔پس اس پہلو سے خواتین کو بھی توجہ کرنی چاہئے اور صاف ستھرا رہنا چاہئے ، پاکیزہ رہنا چاہئے ، گھر سے بد بو کو دور کرنا چاہئے۔بعض بیچاری غریب عورتیں مجبور ہیں، کپڑے بھی زیادہ نہیں ہوتے ، پھر پیاز کاٹے ، کھانا پکایا، اس کی بو بدن میں رچ گئی، کپڑوں میں رچ گئی لیکن جو نظیف طبیعت کی عورتیں ہیں۔وہ پھر بھی صاف رہتی ہیں۔پس یہ ہوسکتا ہے۔غربت حائل نہیں ہوسکتی۔بعض خواتین کو میں نے دیکھا ہے وہ پیاز کو پانی کے اندر رکھ کر کاٹتی ہیں، باہر نہیں کاٹتیں کیونکہ اس سے ایک تو پیاز کے جو بخارات ہیں وہ آنکھوں کو تنگ نہیں کرتے اور آنسو نہیں گرتے ، آنکھوں میں سوزش نہیں پیدا ہوتی۔دوسرے اس کی بد بو جسم پر نہیں پھیلتی۔پانی کے اندر ہی رہ جاتی ہے تو اگر ایک انسان سلیقے کے ساتھ رہنا چاہے تو غربت میں بھی رہ سکتا ہے۔ایک غریب خاندان کے متعلق مجھے ذاتی طور پر علم ہے، بہت پرانی بات ہے۔جب مجھے علم ہوا اور میں نے پوچھ کر دیکھا تو واقعہ یہ بات درست نکلی ہے کہ ان بچوں کے ماں باپ نے یہ دستور بنایا تھا کہ روزانہ اپنے کپڑے دھو کر ڈالتے تھے اور بچوں کو بھی یہ سکھایا تھا کہ جب واپس آؤ تو دھلا ہوا کپڑا جو ماں نے تیار رکھا ہوتا تھا۔وہ پہنو اور سکول کا کپڑا دھوؤ۔اب یہ ہو سکتا ہے کہ بعضوں کے لئے تکلیف مالا يطاق ہو لیکن نمونہ ضرور ہے کہ غربت میں بھی انسان صاف رہ سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ساری باتیں چل رہی ہیں۔آپ کی طرز بود و باش نہایت غریبانہ تھی اور کپڑے خود سیتے تھے، پیوند لگا لیا کرتے تھے مگر پاکیزہ بدن، پاکیزہ لباس صاف ستھرا خوشبو سے معطر ، یہ زینت ہے۔زینت کا یہ مطلب نہیں کہ فیشن کرو اور مہنگے مہنگے کپڑے خرید و اور گوٹہ کناری لگاؤ جو زینت محمد رسول اللہ کی زینت ہے وہی زینت ہے اور جو عورتیں صاف بدن پاک بدن ہوں اور اچھے کپڑے ان معنوں میں پہنیں کہ صاف ستھرے نظیف ہوں اور خوشبو لگائی ہو تو وہ لازماً سکینت کا سامان بنیں گے۔پس یہاں امیر اور غریب کی بحث نہیں ہے۔ہر شخص جو حضرت رسول اکرم کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ آپ ﷺ کی زینت اخذ کر سکتا ہے۔یہ اصول ہے اسے اچھی صلى الله صلى الله۔صلى الله طرح یا درکھیں۔یہ ناممکن ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ امیروں کے تو رسول ﷺ ہوں اور غریبوں کے صلى الله نہ ہوں۔یہ وہ رسول مہ ہے جو ہر تفریق مٹا دیتا ہے ، مشرق کا بھی ہے،مغرب کا بھی ہے، مختلف