خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد ۱۲ 20 20 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء کہ کوالٹی اچھی ہے پھر مختلف پتوں پر ان کو بھجوانا ان کے حسابات رکھنا بڑا، لمبا، محنت کا کام ہے لیکن جماعت کرتی رہی پھر بھی احباب جماعت کی بہت ہی تھوڑی تعداد ہے جن تک یہ پیغام براہِ راست خلیفہ وقت کی زبان میں پہنچتے تھے۔اس کوشش کی وجہ یہ تھی کہ میرا تجربہ ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے جو بات کوئی دوسرا پہنچاتا ہے اس کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا براہ راست خلیفہ وقت سے کوئی بات سنی جائے۔میرا اپنا زندگی کا لمبا عرصہ دوسرے خلفاء کے تابع ان کی ہدایات کے مطابق چلنے کی کوشش میں صرف ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پیغام پہنچائے فلاں خطبہ میں خلیفہ نے یہ بات کی تھی اور خطبہ میں خود حاضر ہو کر وہ بات سننا ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پیغام خواہ کسی کے ذریعے پہنچے اطاعت تو پھر بھی کی جاتی ہے لیکن پیغام کی نوعیت بدل جاتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ پیغام پہنچانے والے میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ جس جذبے کے ساتھ جن باتوں کو ابھار کر نمایاں کر کے پیغام دینے والا پیغام پیش کر رہا ہے بعینہ اسی طرح پیغام کو آگے پہنچائے کہ اس کے جذبات، اس کے زیر و بم تمام کے تمام پیغام کے ساتھ دوسرے شخص تک منتقل ہو چکے ہوں، کوالٹی کا بیچ میں ضائع ہونا یعنی اس کے مزاج کا بیچ میں ضائع ہو جانا ایک ایسی طبعی بات ہے کہ انسان کی یادداشت تو زیادہ بھولتی ہے لیکن الیکٹرانکس کی یادداشت کے ذریعہ جو پیغام کیسٹ سے کیسٹ میں منتقل کئے جاتے ہیں تیسری چوتھی پانچویں Generation میں جا کر اس کیسٹ کا مزاج بھی بدل جاتا ہے اور وہ بات ہی نہیں رہتی جو بھی کیسٹ میں تھی اس لئے Mother کیسٹ کو ہمیشہ سنبھال کر رکھا جاتا ہے تا کہ آگے اسی سے بار بار دوسری ٹیسٹس تیار ہوں تو یہ مشکل تھی جس کی وجہ سے جماعت نے کوشش کی کہ ٹیسٹس کے ذریعہ پیغام پہنچے تو کیسٹ کے واسطے سے احباب جماعت پورا پیغام خود سنیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت محنت کے باوجود وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔بعض جماعتوں کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہاں اگر دس ہزار آبادی ہے تو بمشکل دو یا چار سو ایسے احمدی ہیں جو استفادہ کر سکتے تھے یا کرتے رہے اور باقیوں کے متعلق محض رپورٹ ہی ملتی رہی کہ کیسٹس بھجوائی جا رہی ہیں اب اللہ تعالیٰ نے وہ انتظام فرما دیا ہے کہ جہاں تک خطوط سے میں نے اندازہ کیا ہے،اتنے دور دراز علاقوں میں بیٹھے لوگ نہ صرف براہ راست سن رہے ہیں بلکہ دیکھ رہے