خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 230

خطبات طاہر جلد ۱۲ 230 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء اپنے گھر خالی ہو گئے۔میں جماعت احمدیہ سے توقع رکھتا ہوں کہ ہمیشہ ہر جمعہ پر یہ نظارہ دکھایا کریں گے، اپنے گھروں کو خیر باد کہہ دیا کریں گے اور اللہ کے گھر حاضر ہو جایا کریں گے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اس آخری پاک سنت پر نظر رکھتے ہوئے اگر وہ خدا کے گھروں کو آباد کریں گے اور اپنے گھروں کو خالی کریں گے میں اُن کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ اُن کے گھروں کی آبادی کا ضامن ہو جائے گا۔ایسے گھروں سے کوئی برکتیں نہیں چھین سکتا۔وہی گھر ہیں جو آباد کہلائیں گے جو خدا کی خاطر چھوڑے جاتے ہیں۔پس ہمیشہ ہمیش کے لئے اس بات کو اپنے پلے سے باندھ لیں، اپنے دلوں میں جاگزیں کرلیں، اپنی عادت مستمرہ بنالیں ، اپنی فطرت ثانیہ بنا رکھیں کہ اللہ کی راہ میں اپنے گھروں سے بڑھ کر خدا کے گھروں سے محبت کرنی ہے اور خدا کے گھروں کو بھرنا ہے اور جمعہ ک تو ایسا لازم پکڑیں کہ سوائے اس کے کہ کوئی بالکل مجبور اور معذور ہو ہر احمدی دنیا کے ہر کونے میں جب بھی جمعے کی اذان کا وقت آتا ہے خواہ وہ آواز کوسن رہا ہو یا نہ سن رہا ہو۔اُس کا گوش ہوش اُس آواز کوسن رہا ہو اور وہ خدا کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمعے کے لئے حاضر ہو جایا کریں۔پس جماعت کا فرض ہے کہ ان لوگوں کے لئے نماز جمعہ کے مراکز مقرر کریں جہاں مسجدیں نہیں ہیں وہاں مسجدیں بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے مگر جہاں مسجدیں ہیں وہاں مسجدوں کو آباد کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور سب سے بڑی مسجد کی آبادی جمعہ سے ہوتی ہے اور جہاں جمعے ادا ہو جاتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ پانچوں وقت کی نمازیں بھی پہلے کی نسبت بہت زیادہ سدھر جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ ہر نماز کے وقت نمازی کا دل مسجد میں اٹک جاتا ہے اور وہ مسجد میں آنے کی کوشش کرتا ہے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن توقعات کو آپ کے سامنے رکھ کر آج اس خطبے کو ختم کروں گا۔آپ کے ہی الفاظ میں میں جماعت سے اُن توقعات کا ذکر کرتا ہوں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی جماعت سے وابستہ تھیں اور ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔فرماتے ہیں۔سواے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔۔۔“ میری جماعت داخل ہو نہیں فرمایا کیونکہ جماعت میں داخل ہونے کے ساتھ کچھ کیفیتیں بدل جاتی ہیں اور کچھ اور قسم کے آثار باقیہ ظاہر ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے اعلیٰ قدروں کی صورت میں اُن کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔فرمایا اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے