خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 229
خطبات طاہر جلد ۱۲ 229 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء ہیں کہ رسول اللہ لے کے مرض الموت میں ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔جب پیر کا دن ہوا اور لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہمیں کھڑے ہو کر دیکھنے لگے۔اُس وقت آپ کا چہرہ مصحف کا ایک ورق تھا۔کیسی خوبصورت تشبیہ ہے۔قرآن کریم کا ایک ورق دکھائی دیتا ہے۔ایسا روشن جیسا کہ خدا کے کلام کے منہ کا نور ہوتا ہے۔اس طرح حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے منہ پر اس وقت نور تھا۔پھر آپ بشاشت سے مسکرا دیئے۔ہم نے چاہا کہ از راہ مسرت رسول اللہ ﷺ کے دیدار میں مشغول ہو جائیں اور ابو بکر نے جب یہ دیکھا تو پیچھے ہٹے تا کہ صف میں مل جائیں اُنہوں نے سمجھا کہ رسول اللہ علیہ نماز پڑھانے آئے ہیں لیکن آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور آپ نے پردہ گرا دیا۔یہ آپ کی وفات کا دن تھا۔آخری مسرت جو اس دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کو پہنچی وہ عبادت کرنے والوں کے چہروں کو دیکھنے سے پہنچی ہے جن کو آپ نے خدا کی راہ میں عبادت کے لئے تیار کیا۔کیا آج امت محمدیہ اس نظارے کو بھول جائے گی ؟ کیا آج محمد رسول اللہ ﷺ کی نگاہیں آپ سے یہ توقع نہیں رکھتیں؟ اسی طرح عبادت کا حق ادا کریں جس طرح آپ نے تمام عمر آپ کو عبادت کرنے کے گر سکھائے ہیں اور عبادت کرنے کے صلى الله آداب عطا فرمائے ہیں۔لوگ یہ جھگڑے کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ یہ عالم الغیب ہیں یا نہیں ہیں مگر ہمارا خدا تو عالم الغیب ہے اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ امت کے حالات سے محمد رسول اللہ کی روح کو مطلع فرماتا ہے اور خصوصاً وہ باتیں جو خوشیوں کی باتیں ہیں۔وہ ضرور حضوراکرم کی روح کے سامنے پیش کی جاتی ہوں گی۔آج احمدیوں کو اس بات کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں تھام لینا چاہئے اور ہمیشہ کے لئے اس جھنڈے کو بلند رکھنا چاہئے ،نماز کی حفاظت کرنے والے بہنیں۔نماز سے ایسی محبت کریں جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے نماز سے محبت کی۔اس طرح مسجدوں سے اپنے دل اٹکا لیں، پانچ وقت نمازوں کی پابندی صرف گھروں پر نہیں بلکہ مسجدوں میں جانے کی کوشش کرتے ہوئے کریں۔اپنی مسجدوں کو بھر دیں، یہ ایک جمعۃ الوداع ہمیشہ ہمیش کے لئے ، ہر جمعہ کے دن اُسی طرح نمازیوں سے بھر جایا کرے جس طرح آج بھر گیا ہے یا آج بھرنے والا ہے۔ہر جمعہ کو مسجدوں کی رونق ایسی ہو جیسی جمعۃ الوداع کے دن رونق ہوا کرتی ہے اور جس طرح آج خدا کے گھر بھر گئے ہیں اور لوگوں کے صلى الله