خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 211
خطبات طاہر جلد ۱۲ 211 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء پس دعا کی قبولیت کی چابی بھی اسی میں ہے۔اب رمضان کے جتنے روزے رہ گئے ہیں۔میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تہجد کی نماز پہ پہنچنے سے پہلے پہلے دن کی نمازیں ادا کیا کریں۔جب تک دن کی نمازیں ادا نہیں ہوں گی نَافِلَةٌ لكَ والی نماز نصیب ہی نہیں ہوسکتی۔پانچ وقت نمازوں کو قائم کریں اور روزے رکھیں۔بہت سے احمدی ایسے ہیں جن کے متعلق میں جانتا ہوں کئی بہانوں سے وہ روزے چھوڑ دیتے ہیں اور روزوں کے معاملے میں جماعت میں ابھی تک سستی پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ صحابہ اور آپ کے تابعین جو مجھے یاد ہیں قادیان میں جن کے ماحول میں ہم نے آنکھیں کھولیں اور بڑے ہوئے وہ روزوں کے بہت پابند تھے اور رمضان کے مہینے میں قادیان کی فضا ہی عجیب لہریں لیتی تھیں، اس کی تو کیفیت ہی بدل جایا کرتی تھی۔دن بھی روشن تر ہو جاتے تھے اور راتیں بھی جاگ اٹھتی تھیں اور راتوں کو بھی لوگوں کے گھر منور ہو جایا کرتے تھے۔وہ مقام حاصل کرنے ہیں تو نمازوں سے بھی چمٹیں اور روزوں کے ذریعے نمازیں نصیب ہوتی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر رمضان مبارک فرض نہ ہوا ہوتا تو مسلمانوں میں سے کب سے نمازیں اکثریت سے مٹ چکی ہوتیں۔یہ پیارا مقدس مہینہ ہے جو دوبارہ زبردستی نمازوں کی عادت ڈال کے جاتا ہے۔کسی کو تھوڑی پڑتی ہے، کسی کو زیادہ پڑتی ہے مگر رمضان کی برکت سے نمازیں پہلے سے بہتر ہو جاتی ہیں۔اُن میں زیادہ با قاعدگی آجاتی ہے، وقت پر پڑھی جاتی ہیں غرضیکہ نمازوں کے قیام کے لئے رمضان مبارک ایک بہت ہی مقدس مہینہ ہے مگر اگر روزے نہیں رکھیں گے تو نمازیں بھی نصیب نہیں ہوں گی۔روزے رکھیں پوری محنت اور کوشش کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام روزے کے متعلق جو فرماتے ہیں کچھ حصہ میں آئندہ بیان کروں گا۔تھوڑے وقت میں جو کچھ میں پیش کر سکتا تھا۔میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔”میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان ) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اُس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالی طاقت بخش دے گا۔اگر