خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد ۱۲ 189 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء اٹھا سکے گا۔اب ایک آدمی ٹھنڈا میٹھا دودھ پیئے وہ اگر بھوکا ہے تو اُس کو اور لطف آرہا ہوگا اور اگر اُس کا پیٹ بھرا ہوا ہے تو بعض دفعہ اُس کا دل ہی نہیں چاہے گا بلکہ دودھ پینے سے اُس کو متلی پیدا ہوگی تو بظاہر جنت کی نعمتیں ایک جیسی ہوں گی مگر جس دروازے سے انسان گزرے گا اُس دروازے کی صلاحیتیں ساتھ اندر لے کر جائے گا اور وہ شخص جس نے خدا کی خاطر بھوک اور پیاس کی تکلیفیں برداشت کی ہیں۔اُس کو اُسی جنت میں ان دو پہلوؤں سے باقی سب سے زیادہ مزہ آرہا ہو گا۔وہ زیادہ عمدگی کے ساتھ اور زیادہ لطافت کے ساتھ سیراب کیا جا رہا ہوگا۔صلى الله پس حضور اکرم ﷺ نے جو اس قسم کے مضامین بیان فرمائے ہیں۔بعض ظاہر پرست اُن کا مطلب سمجھ نہیں سکتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ بڑا فلاں گیٹ سے نکل جائیں گے، اندر داخل ہو جائیں گے جس طرح دنیا میں گیٹوں سے داخل ہوتے ہیں۔وہ یہ بات نہیں ہے وہ بعض تاثیریں ہیں بعض غیر معمولی امتیازات ہیں جو اُن کو بخشے جائیں گے جو اُن کے ساتھ داخل ہوں گے گیٹ کے ساتھ ، پیچھے نہیں رہ جائیں گے۔پس وہ غیر معمولی لطف جو روزہ دار روزہ کھولتے وقت محسوس کرتا ہے غذا سے۔اُس سے بہت زیادہ ، غیر معمولی طور پر زیادہ جنت کی نعماء سے وہ محسوس کرے گا۔پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ سنن ترمذی سے حدیث لی گئی ہے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایک روزہ بھی بغیر شرعی اجازت کے اور بیماری کے چھوڑتا ہے پھر خواہ وہ زندگی بھر روزے رکھے اُس روزے کی قضا نہیں ہے۔قضا کا مضمون قرآن کریم میں کھول کر بیان فرما دیا گیا ہے۔یہ دراصل اُسی سے استنباط ہے۔فرمایا کہ یہ یہ شرطیں ہیں یہ شرطیں اگر پوری ہوں تو تم روزہ نہ رکھو اور اُس روزے کے بدلے کچھ فدیہ دے دو اور کچھ بعد میں روزہ رکھ لو۔پس جو روزے چھوٹ گئے اُس کے بدلے بعد میں روزے رکھنے کی قضا کی اجازت ہے۔اگر وہ شرطیں پوری نہ ہوں تو خدا کی طرف سے قضا کی اجازت ہی کوئی نہیں اس لئے جہاں اجازتیں مذکور ہو جائیں۔اُن اجازتوں سے باہر انسان سے کوئی کوتا ہی ہو جاتی ہے ، کوئی فرض چھٹ جاتا ہے، اُس کی قضا ہے ہی کوئی نہیں۔پس روزہ چھٹنے کی کوئی قضا نہیں ہے یہ یادرکھیں۔یعنی اگر عمد الطور گناہ کے روزہ چھوڑا جاتا ہے۔رکھنے کی طاقت کے باوجود چھوڑا جاتا ہے۔تو پھر ساری عمر بھی روزے رکھیں وہ چھٹے ہوئے روزے بحال نہیں ہو سکتے۔