خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد ۱۲ 188 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء شخص پیش نظر نہیں جو بد کلام ہو۔عموماً پاک کلام کرنے والوں کے لئے بھی ایک امتحان کا وقت ہے خطرے کا وقت ہے،خطرے کے مقامات ہیں۔رمضان مبارک میں خصوصیت سے روزے کے دوران اپنی زبان کی نگرانی کیا کریں۔صحیح بخاری کتاب الصوم سے ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں۔حضرت سہل سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں۔قیامت کے دن روزے دار اُس سے داخل ہوں گے اور اُن کے سوا کوئی اُس میں سے داخل نہیں ہوگا۔پوچھا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور جب وہ داخل ہو جائیں گے۔وہ بند کر دیا جائے گا اور پھر اس سے کوئی داخل نہیں ہو گا۔ریان لفظ جو ہے اس میں اس بات کی کنجی ہے کہ کیا ثواب خصوصیت سے ان کو دیا جائے گا، کیوں اُن کے لئے ایک علیحدہ دروازہ مقدر ہے؟ ریان ری سے صفت مشبہ ہے فعل سے فعل ہونا ضد العطشان یعنی پیاس کا الٹ اور سیراب چہرے پہ بھی یہی لفظ اطلاق پاتا ہے۔چونکہ انسان خدا کی خاطر بھوک کے نتیجے میں کمزوری محسوس کرتا ہے، پانی نہ پینے کے نتیجے میں ایک عطشان کی کیفیت یعنی پیاس کی کیفیت بھڑک اٹھتی ہے بعض دفعہ اور اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ انسان جس نے گرمیوں میں روزہ رکھے اُس کو بھی پتا ہے کہ کس قدر وہ طلب میں مبتلا ہوتا ہے تو جنت میں ایسا دروازہ مقرر فرمانا جس کا نام ریان ہے، جس کے اوپر جاتی حرفوں سے گویا لکھا ہوگا کہ یہ سیرابی کا دروازہ ہے اس میں سے لوگ داخل ہوں گے۔جنت تو ایک ہی ہے دروازے الگ ہوں گے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا صرف یہ اعزاز ہی ہے کہ ہم اس دروازے سے آئے تھے اور پھر ایک وقت میں اور بھی تو نیکیوں کے دروازے ہیں جن میں ایک روزہ دار آگے بڑھا ہوا ہوگا۔کیا وہ اُن سے محروم کر دیا جائے گا؟ یہ باتیں سمجھنے کے لائق ہیں۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے مختلف دروازوں کا ذکر کر کے یہ اطلاع دی ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی خاص نیکی میں امتیاز پائے گا اُسی جنت میں اُس پہلو سے اُس کو زیادہ مزا آئے گا۔اُس کی لذت اٹھانے کی صلاحیتیں اجاگر کی جائیں گی اور جس کا مطلب یہ ہے کہ دودھ اور شہد جو بھی شکل ہے اُس کی ظاہری تو نہیں ہے لیکن جس طرح دودھ انسان کے لئے بعض غیر معمولی غذائی صلاحیتیں رکھتا ہے یا شہد رکھتا ہے، لذتیں بھی رکھتا ہے۔اس طرح کی کوئی چیز ہے ہر شخص اُس سے ایک جیسا مزہ نہیں