خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 150

خطبات طاہر جلد ۱۲ 150 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء کہ ہمارے امام قائم جب معبوث ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ ہمارے گروہ کے کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھا دے گا یہاں تک کہ یوں محسوس ہو گا کہ گویا امام القائم اور ان کے درمیان کا فاصلہ ایک برید یعنی ایک سٹیشن کے برابر رہ گیا ہے۔ڈاک کی جو منازل ہیں اس سے مراد برید ہیں۔چنانچہ جب وہ ان سے بات کریں گے تو وہ انہیں سنیں گے اور ساتھ دیکھیں گے بھی جبکہ وہ امام اپنی جگہ پر ٹھہرا ہی رہے گا تو یہ بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی اور بالکل واضح جو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پوری فرمائی ہے۔اس میں خاص بات قابل ذکر یہ ہے کہ اس سے عام دنیا کی دید اور دنیا کی شنوائی مراد نہیں ہے۔جو عام آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے ورنہ حضرت امام جعفر صادق یہ نہ فرماتے کہ ہمارے گروہ کے کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھا دے گا اللہ تعالیٰ۔مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو تعلق رکھیں گے اور بات سننا چاہیں گے اور دیکھنا چاہیں گے۔ان کو اللہ تعالیٰ توفیق دے دے گا کہ وہ دور بیٹھے ہی وہ دیکھ بھی لیں اور سن بھی لیں۔تو ساری دنیا تو ان پروگراموں میں شامل نہیں ہو رہی لیکن وہ جو محبت کا تعلق رکھتے ہیں وہی آتے ہیں اور وہی سنتے ہیں۔جو ہمارے گروہ کی بینائی کو بڑھانا بھی ایک لطیف اشارہ ہے۔حضرت امام باقر نے فرمایا اور یہ المهدى الموعود المنتظر “ کتاب سے حوالہ لیا گیا ہے۔الفاظ ان کے یہ ہیں: ينادى مناد من السماء باسمه المهدى فيسمع من بالمشرق و من بـالـمـغـرب حتى لا يبقى راقد الاستقظ (المهدى الموعود المنتظر عند علماء اہل السنۃ والا مامية الجزء الثانی صفحہ: ۳۴۔مؤلفہ شیخ نجم الدین جعفر بن محمد العسکری دار الزھراء۔بیروت ایڈیشن ۱۹۷۷ء) امام باقر نے فرمایا حضرت امام مہدی کے نام پر ایک منادی والا آسمان سے منادی کرے گا۔اس کی آواز مشرق میں بسنے والوں کو بھی پہنچے گی اور مغرب میں رہنے والوں کو بھی ، یہاں تک کہ ہر سونے والا جاگ اُٹھے گا۔اس میں ایک بڑی وضاحت ہے جس کو احمدی تو پہلے ہی جانتے ہیں، سمجھتے ہیں لیکن بعض جو دوسرے بعض مہمان آتے ہیں ان کی خاطر میں وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نعوذ باللہ مجھے نہ امام مہدی سمجھ لیں۔حضرت امام باقر نے اس مضمون کو کھول دیا ہے کہ امام مہدی اور ہوگا اور وہ جو