خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد ۱۲ 146 خطبہ جمعہ ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء ہے کہیں بھی ایک جگہ بھی مجھے یہ بات دکھائی نہیں دی کہ تبلیغ کی خاطر اپنادین پھیلانے کی خاطر خدمت کرو، بلکہ خدمت کے ذکر میں دین کا ذکر ہی کوئی نہیں۔تمام بنی نوع انسان کی بلا تمیز مذ ہب و فرقہ اور ملت رنگ ونسل ایک عام خدمت کا مضمون چلتا ہے اور بنی نوع انسان سے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی رحمت کا تعلق ہے یہ دراصل وہی مضمون ہے جو بیان کیا جاتا ہے آپ کو رحمة للمسلمين نہیں فرما يارحمة للمومنین نہیں فرمایا، رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء: ۱۰۸) فرمایا ہے۔پس یہ جو ابتدائی انسانی خدمتیں ہیں بلا تمیز مذہب وملت یہ محمد مصطفی ﷺ کی رحمت ہی ہے جس کے آپ آگے ساقی بنیں گے اس رحمت کے جام بھر بھر کے دنیا کو پلائیں گے۔تو یہی وہ روح ہے جس کو آپ کو ضرور قائم رکھنا ہوگا۔یہاں انگلستان ہی کی بات ہے کہ ایک موقع پر ایک کیمپ سے جماعت کا گہرا رابطہ تھا تو ان کو ایک پیغام ملا ایک اور مسلمان تنظیم کا کہ آپ ہم سے کیوں نہیں ملتے آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ان سے پوچھا کیونکہ وہ ان کے زیر احسان تھے ان کی شرافت تھی ، انہوں نے کہا آپ کی اجازت ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں، انہوں نے کہا شوق سے جائیں اگر کوئی اور وہ خدمت آپ کی کر سکتے ہیں تو بہت اچھا ہے اور ہم تو اس بات کو خدمت میں داخل ہی نہیں سمجھتے کہ مذہبی یا فرقے کی تفریق کی جائے۔وہ گئے اور کچھ دیر کے بعد سخت نالاں ہو کے واپس آئے۔انہوں نے کہا کیوں کیا ہوا ہے۔جواب یہ دیا کہ جب ہم ان سے ملے ہیں تو جاتے ہی پہلے احمدیت کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور ہمیں سمجھانے لگے کہ یہ تو کافر ہیں تو ہم نے ان سے کہا کہ یہ اگر کافر ہیں۔تو یہ کافر پھر اچھے ہیں کیونکہ آپ سے ملنے کے لئے انہوں نے ہمیں نہیں روکا اور آپ عجیب مومن ہیں کہ ان سے ملنے کے لئے روک رہے ہیں جو ہمیں آپ کے پاس بھیج رہے ہیں۔یہ جو بائیکاٹ کا مضمون ہے اس قسم کا یہ ہماری سمجھ سے بالا ہے، اسلام کی طرف سے نہیں ہو سکتا اور واقعہ انہوں نے بہت گہری بات کی ہے۔مسلمان ملاں کو کون سمجھائے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیوں سے بائیکاٹ کی تعلیم دی جاتی تھی آپ نے کبھی بائیکاٹ کی تعلیم کسی اور کے خلاف نہیں دی ،مومنوں کی آپس میں جب ناراضگی ہوئی یا غلطی ہوئی تو ایک دو موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے عارضی طور پر بائیکاٹ مومنوں کا کیا گیا کافروں کا یا غیر مذہب والوں کے بائیکاٹ کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔پس ہم تو حضرت اقدس محمد ﷺ کے غلام ہیں ، بینگنوں کے غلام تو نہیں ہیں۔اس لئے ہم تو آپ ہی کی سنت پر عمل کریں گے اور یہی سنت