خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۱۲ 138 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء فسادات برپا ہوئے ہیں ان کے متعلق جہاں تک پاکستانی اخبارات کا تعلق ہے صرف یہ خبریں دی جاتی ہیں کہ گویا کلیپ مسلمان مارے گئے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے جب فسادات شروع ہو جائیں تو پھر دونوں طرف سے خواہ دفاع میں ہو یا جارحانہ کارروائی ہو، کارروائی کی جاتی ہے۔تو مسلمانوں نے بھی بعض علاقوں میں اپنے جوابی حملے کئے اور اس کے نتیجہ میں کچھ ہندوؤں کو بھی نقصان پہنچا۔لیکن مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ایک بڑی نمایاں تمیز ہے۔ایسا فرق خدا نے ظاہر فرمایا ہے جو ان علاقوں میں ایک فرقان کی حیثیت رکھتا ہے۔مسلمانوں نے کسی عورت کی بے حرمتی نہیں کی کسی مظلوم عورت سے زیادتی نہیں کی لیکن ہندوؤں نے کثرت کے ساتھ مسلمانوں کی عزتیں لوٹی ہیں اور بوسنیا میں جو سلوک بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں سے کیا گیا ہے ایک حد تک بمبئی میں اور دوسرے ہندوستان کے علاقوں میں مسلمانوں سے کیا گیا ہے۔پس جماعت نے مظلوموں کی خدمت میں فوراً کارروائی کی اور مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔بمبئی میں باوجود اس کے کہ جماعت کی تعداد بہت چھوٹی ہے چونکہ وہ علاقہ ایسا ہے جہاں مسلمانوں پر سب سے زیادہ ظلم ہوئے ہیں اس لئے خصوصیت سے ہم نے چھوٹی تعداد کے باوجوداس علاقہ کو خدمت کے لئے نمونہ بنایا اور بڑے لمبے عرصہ سے وہاں کے خدام انصار اور لجنات خدمت کے کاموں میں مصروف ہیں اور ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتے ، مظلوم کی خدمت کر رہے ہیں ایسے ہند و علاقوں میں بھی پہنچے جہاں خود ان کی جانوں کو خطرہ تھا لیکن وہ جو گھر لئے ہوئے تھے ان کو برتن لے کر دیئے جن کے پاس کپڑا نہیں تھا ان کو کپڑے دیئے، کمبل کے ضرورتمندوں کو کمبل دیئے گئے اور اب ایک نیا پروگرام ہے جس کے تابع ہندوؤں کے علاقے میں بھی لیکن زیادہ تر مسلمانوں کے علاقہ میں جہاں بہت زیادہ مکان جلے ہیں۔وہاں مکانوں کی تعمیر نو میں جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے بھر پور حصہ لے رہی ہے اور اس پر بہت زیادہ خرچ بھی آرہا ہے لیکن میں نے بمبئی کی جماعت کو یہ ہدایت کی ہے کہ خرچ کی پرواہ نہ کریں۔نیک کاموں پر جو خرچ جماعت کرتی ہے وہ خدا تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور بظاہر ہماری جیبوں سے نکلتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خدمت کو مختصر الفاظ میں یوں بیان فرما دیا ہے۔سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے (در نمین: ۳۶)