خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد ۱۲ 123 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ خدا ہی رب ہے اور کوئی رب نہیں تو اس وقت پھر خوف سامنے دامن گیر ہو جاتے ہیں وہاں پہنچ کر انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں نے فلاں بات کے لئے جھوٹ نہ بولا تو میرا رزق کا یہ ذریعہ ختم ہو جائے گا۔فلاں بات کے لئے فلاں چالا کی نہ کی تو میرا یہ رزق کا ذریعہ ٹوٹ جائے گا دھوکہ نہ دیا تو یہ نقصان پہنچے گا۔فلاں بدی نہ کی تو یہ نقصان پہنچے گا۔یہ وہ طبعی مقامات خوف ہیں جن کا اس آیت میں ذکر موجود ہے اس وقت جو لوگ ان خوفوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رڈ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ باوجود اس کے ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ہم نے جس کو رب بنانا تھا اس کو رب بنالیا ہے اس لئے اے جھوٹے ربوب، اے مصنوعی خداؤ ! تم ہماری نظر سے دفع ہو جاؤ ہمیں آئندہ کبھی تمہاری کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔یہ وہ مقام ہے جس پر فرشتے نازل ہوا کرتے ہیں۔دوسرا ہے جب غیر آپ کے اموال کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ آپ کی دکانیں جلاتے آپ کے گھروں کو آگ لگاتے اور آپ کی ساری عمر کی محنت کی کمائیاں چھین کر لے جاتے ہیں۔اس وقت غیر اللہ کی طرف سے یہ بتایا جاتا ہے کہ تم کیا کہتے تھے کہ خدا ہمارا رب ہے خدا ہمارا رب ہے۔جو کچھ تمہارے پاس تھا اب ہم تم سے لے گئے ہیں اب بتاؤ د یکھتے ہیں تمہارا رب تمہارا کیا کرتا ہے۔اس وقت پھر یہ مضمون صادق آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ فرشتے نازل ہوتے ہیں کیا پیغام لے کر ؟ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا دیکھو جو ہو چکا وہ ہو چکا اب تم ہماری حفاظت میں آگئے ہو۔اَلا تَخَافُوا غیر اللہ کا کوئی خوف نہیں کرنا۔ان پر اس کے دو معنی ہیں۔ایک تو یہ کہ بعض لوگوں کو حفاظت کا وعدہ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد حالات تبدیل کر دئیے جاتے ہیں اور ایک یہ معنی ہے کہ جو کچھ یہ کر گزریں دلیری کے ساتھ ان چیزوں کو برداشت کرو۔جب خدا کو اپنایا ہے تو پھر اس کی خاطر غیر کے خوف کی قطعا کوئی ضرورت ہی نہیں ہے چنانچہ شہداء کا یہی حال ہوتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید ان پر بھی تو فرشتے نازل ہورہے تھے۔ان سے بھی تو خدا ہم کلام تھا لیکن بظاہر ان کا خطرہ ٹالا نہیں گیا لیکن ان کو ایک ایسی بے خوفی عطا کی گئی جس کا دور ونزدیک ایک رعب طاری ہو گیا تھا۔ایک عیسائی جو وہاں کا سب سے بڑا انجینئر تھا۔انگلستان سے گیا ہوا تھا اس نے اپنی کتاب میں اس کا نقشہ کھینچا ہے اور اس حیرت سے کھینچا ہے کہ معلوم ہوتا ہے مرتے دم تک اس کے دل پر اس بات کا اثر تھا کہ ایسا بے خوف انسان تھا۔