خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 109

خطبات طاہر جلد ۱۲ 109 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء نصیحت کرو گے تو تمہاری نصیحت میں طاقت ہوگی اور زمانے کے اطوار بدل سکو گے ورنہ نہیں۔پھر صبر کا مضمون چھیڑ کر بتایا کہ لوگ بہت مظلوم ہوں گے، انسان بحیثیت انسان مظلوم ہوگا اور یہ جو نقشہ ہے یہ حقیقت میں مالک پر بھی اطلاق پاتا ہے اور مزدور پر بھی ، حکومت پر بھی اور رعایا پر بھی، کیونکہ جن ملکوں پر آپ ظالم حکومتوں کو دیکھتے ہیں ان کے گزشتہ چند سال کے انقلابات پر اگر وہاں انقلاب آئے ہوں، غور کر کے دیکھ لیں اور اسی سے باقی دنیا کے حالات کا اندازہ کریں تو پتا چلے گا کہ انقلاب لانے والے بھی جب حکومتوں پر فائز ہوتے ہیں تو ظالم بن کر ہی ابھرتے ہیں۔جب اشتراکیت کا انقلاب آیا تھا تو وہ ظلم کے خلاف انقلاب تھا لیکن انقلاب خود اپنی ذات میں ظالمانہ تھا۔جب ظلم کے نام پر ظالم کے خلاف جہاد کرنے والے حکومت پر فائز ہوئے تو وہ خود ظالم بن گئے۔اسی طرح ظلم کے خلاف ایک انقلاب ایران میں ہوا تھا اور بعد میں جس طرح بعض لوگوں کا قتل عام ہوا ہے دنیا کا کوئی انصاف پسند یہ نہیں کہہ سکتا کہ ظلم کا جواب اس طرح دیا جانا چاہئے۔تو جہاں جہاں بھی دنیا میں انقلاب آرہے ہیں ایک ظالم کے خلاف ایک مظلوم انقلاب لاتا ہے لیکن جب اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں پہلے ظالم فائز تھا تو خود ظالم بن کر ظاہر ہوتا ہے۔تو اس کا مطلب ہے کہ مخفی ظلم کی رگ ہر انسان کے اندر پھڑک رہی ہے، ہر انسان سے مراد یہ نہیں کہ استثناء کوئی نہیں۔قرآن کریم خود استثناء فرما رہا ہے مراد یہ ہے کہ اتنی عام بات ہے کہ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سارا زمانہ ظلم کا شکار ہو چکا ہے اور بے صبرا ہو گیا ، بے صبرا اپن ان لوگوں کا ، بہت ہی خوبصورت نقشہ کھینچ رہا ہے جن کو حکومت میں بھی چین نہیں اور جو محکوم ہے ان کو تو ویسے ہی چین نہیں، امیروں کو بھی چین نہیں اور غریبوں کو بھی چین نہیں ہے۔اگر آپ اس وقت دولت مندوں کا حال دیکھیں تو آپ حقیقت میں حیران ہوں گے کہ دولت مند بھی بڑے سخت بے چین اور بے قرار ہیں ان میں بھی ایسی تکلیفیں ہیں جنہوں نے ان کو بے صبرا کر دیا ہے اور کئی دفعہ اچانک ایسے حالات سامنے آتے ہیں جن سے ہمیں نمونیہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ بظاہر خوش باش اور عیش و عشرت میں ملوث دولت مندوں کے دلوں کی کیا کیفیت ہے۔ابھی چند دن ہوئے انگلستان کے ایک امیر ترین آدمی کی ایک بیٹی نے خودکشی کی ہے جس کی کہانیاں اخبارات اور ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ عام مشتہر کی گئیں اور دنیا کی ہر نعمت ہر چیز تھی بے حد محبت کرنے والا باپ تھا لیکن دل تھا کہ اس میں ایک جہنم بھڑک رہی تھی اور بعض دفعہ ایسے ایسے واقعات نظر آنے