خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 108

خطبات طاہر جلد ۱۲ 108 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء کھلم کھلا وہاں موجود ہیں۔پس فرمایا کہ کل عالم اس وقت گھاٹے میں ہوگا اور زمانہ اپنے اطوار سے اس گھاٹے کی گواہی دے گا نصیحت یہ فرمائی کہ اس کا علاج حق سے اور حق کی نصیحت کرتے ہوئے کرنا سچائی پر قائم رہتے ہوئے سچائی کی نصیحت کرنا اور صبر پر قائم رہتے ہوئے صبر کا دامن پکڑتے ہوئے صبر کی نصیحت کرنا۔اس نصیحت میں در حقیقت زمانے کی دو بیماریاں ہمیں بتا دی گئی ہیں اور مفسرین بالعموم مثبت پہلو کو تو سامنے رکھتے ہیں اور رکھنا بھی چاہئے لیکن یہ معلوم نہیں کرتے کہ یہ مثبت پہلو کیوں بیان کیے گئے ہیں۔اس لئے کہ زمانہ ان دونوں باتوں سے عاری ہوگا اس لئے ان کی تلقین فرمائی گئی کہ اے مسلمانو! اگر تم زمانے کی تقدیر بدلنا چاہتے ہوتو بیماری کو دیکھو، بیماری کاحل تلاش کرو۔جیسی بیماری ہے ویسی دوا ہونی چاہئے اور فرمایا کہ ہم تمہیں دوا بتا دیتے ہیں اور وہ بعینہ مرض کے مطابق ہے دوا یہ ہے کہ بیچ پر قائم ہو جانا اور سچ کی تعلیم میں سچائی سے کام لینا دوا یہ ہے کہ صبر کی نصیحت کرنا، لیکن صبر پر قائم رہتے ہوئے خود صبر کے نمونے دکھاتے ہوئے۔ان آیات سے اس وقت کی دنیا کا جو منفی نقشہ ابھرتا ہے وہ مجھے بالکل صاف دکھائی دے رہا ہے ایسا زمانہ ہے جہاں سارے بد بخت جھوٹے ہوگئے ہیں، چھوٹے بھی جھوٹے ، بڑے بھی جھوٹے ،سیاست دان بھی جھوٹے اور مذہبی راہنما بھی جھوٹے ، حکومتیں بھی جھوٹی اور رعایا بھی ، جھوٹی امیر بھی جھوٹا اور غریب بھی جھوٹا، اگر جھوٹ کا یہ نقشہ اتناعام نہ ہوتا تو خدا سارے زمانہ کو یہ نہ کہتا کہ گھاٹے میں چلا گیا ہے۔سارا انسان گھاٹے میں نہ جاتا الانسان کے گھاٹے میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان ان بدصفات میں ملوث ہو چکے ہیں ان برائیوں ان جرائم میں ڈوب گئے ہیں، ہر جگہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔پس آج کی سیاست کا جو نقشہ آپ کو دکھائی دے رہا ہے، آج تجارت کے جو نقشے آپ کو دکھائی دیتے ہیں ملک میں حکومت اور رعایا کے تعلقات کے جو نقشے آپ کو نظر آتے ہیں جس طرف آپ نظر ڈال کر دیکھ لیں سب میں بنیادی جرم جھوٹ کا جرم ہے جو قد رمشترک ہے اور یہ اتنا عام ہے کہ ہر سطح پر رچ بس گیا ہے اور ایک کا دوسرے سے فرق نہیں کیا جا سکتا پہلے کہا جاتا تھا کہ یار عایا جھوٹی ہے یا بادشاہ جھوٹا ہے۔قرآن فرماتا ہے کہ جس زمانہ کی ہم بات کر رہے ہیں رعایا بھی جھوٹی ہوگی اور بادشاہ بھی جھوٹا ہوگا چھوٹے ملک بھی جھوٹے ہوں گے اور بڑے ملک بھی جھوٹے ہوں گے اور اگر تم زمانہ کو اس مرض سے شفا بخشا چاہتے ہو تو تمہیں سچا ہونا پڑے گا ،سچائی کا دامن پکڑو گے اور پھر سچائی کی