خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد ۱۲ 104 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء نیوورلڈ آرڈر تو نہیں ہے یہ انصاف اور رحم سے خالی دلوں کا نیوورلڈ آرڈر ہے۔یہ ایک تعلی کی آواز ہے جو آپ کو سنائی دے رہی ہے جب ایک ظالم دیکھتا ہے کہ اب اس کے ہاتھ روکنے والا دوسرا ظالم میدان میں نہیں رہا تو پھر وہ چنگھاڑتا ہوا وہ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کوئی میرے ہاتھ روک نہیں سکتا۔یہ جو جانوروں کی دنیا کے نقشے تصویروں میں دکھائے جاتے ہیں ایسے حالات بعض دفعہ ان میں دکھائی دیتے ہیں ایک جانور کو گرا کر زخمی کر کے ایک درندہ اس کو کھانے پر تیار بیٹھا ہے کہ ایک اور درندہ دوسری طرف سے آجاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر کچھ دیر غراتے ہیں اور اس کے بعد ایک جو کمزور ہے وہ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے پھر وہ اس کو جس طرح بے فکر ہو کر بھنبھوڑتا ہے اور جس طرح بھنبھوڑنے والے یعنی فاتح درندے کے چہرے پر جیسے بے تکلف ظلم کے آثار ہوتے ہیں کہ کوئی نہیں ہے مجھے پوچھنے والا یہی حال آج کی دنیا میں طاقتور قوموں کا ہے۔یہ نیو ورلڈ آرڈر ہے جس کو دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔آپ عالم اسلام پر نظر دوڑا کر دیکھیں تو آپ کو ایک طرف بوسنیا دکھائی دے گا۔ایک طرف فلسطین دکھائی دے گا، ایک طرف کشمیر اور بمبئی اور اسی طرح ہندوستان کے بعض دوسرے علاقے دکھائی دیں گے، پھر آپ کو عراق میں مختلف مناظر نظر آئیں گے، کہیں وہ شیعہ یا گر داقلیتیں ہیں جن پر کہا جاتا ہے کہ صدام حسین نے ظلم کئے تھے کہیں سارے عراق کے باشندے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ڈکٹیٹر کے جبر کے نیچے مجبور ہیں اور اس کے مقابل پر ان سب پر عرصہ حیات تنگ کر دینے کی ظالمانہ کارروائیاں اور یہ کہتے ہوئے ان کو مجبور کرنا کہ جب تک تم صدام حسین کو اپنے اوپر سے ہٹاؤ گے نہیں ہم تم پر ظلم کرتے رہیں گے۔عجیب وغریب انصاف کے نئے تصور کھینچے جارہے ہیں، جن کی کسی معمولی عقل رکھنے والے کو بھی سمجھ نہیں آسکتی کہ کیسا انصاف ہے ایک طرف فلسطین کا حال ہے وہاں ایک چھوٹے سے دائرے میں رہنے والی چھوٹی سی حکومت رعونت میں بہت بڑھی ہوئی حکومت ہے اور وہ جب چاہے جس طرح چاہے بیچارے نہتے فلسطینیوں پر جس رنگ میں چاہے ظلم کرتی چلی جائے اور اس کے متعلق جب کوئی آواز اٹھتی ہے تو اس پر بڑی قوموں کا ایک ردعمل ہوتا ہے دوسری طرف بوسنیا کے مسلمانوں پر مظالم کا ایک رد عمل ہے۔تیسری طرف کشمیر کے اور ہندوستان کے دیگر مسلمانوں پر مظالم کا ایک رد عمل ہے پھر عراق کی بات ہے ان سب کا موازنہ کر