خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد ۱۲ 103 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء مل رہی ہے۔چنانچہ چند دن پہلے اسلام آباد میں بوسنین خواتین اور بچوں پر مشتمل ایک بڑا قافلہ آیا جس کا انتظام دو تین جگہ کی لجنات کی شاخوں نے کیا اور بڑی محنت سے احمدی خواتین ان کے گھروں تک پہنچیں ان کو ساتھ لے کر آئیں اور ایک کافی دلچسپ محفل لگی ، دلچسپ ان معنوں میں تھی کہ جو آنسو اس مجلس میں بہتے تھے وہ خوشی کے بھی تھے اور غم کے بھی تھے۔ان چہروں کو جس نے نہیں دیکھا اس کو تصور نہیں ہو سکتا کہ کیسی عجیب کیفیات کے حامل وہ چہرے تھے۔ایک طرف اسلام کے نام پر بے لوث محبت کے نتیجہ میں پچھلے جارہے تھے اور دوسری طرف ان کو اپنے دردناک ماضی کی یادیں آتی تھیں جو قریب کا ماضی ہے اور اس کے نتیجہ میں چہرے پر عجیب قسم کی وحشت دوڑنے لگتی تھی بعض آنکھوں میں مسکراتے ہوئے بھی اتنا گہرا غم تھا کہ ان میں ڈوب کر انسان کے دل میں ایک ہول اُٹھتا ہے کہ کس گہرائی کا غم ہے جس کی کوئی اتھاہ دکھائی نہیں دیتی ، اس ضمن میں خدام الاحمدیہ یو۔کے، کے سابق صدر کے سپر د میں نے جو کام کئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بوسنیا وغیرہ سے متعلق نظر رکھیں کہ کیا ہورہا ہے۔دانشور کیا کہہ رہے ہیں اور مختلف سمت سے بوسنیا کے حق میں یا ان کے حالات کے مختلف پہلوؤں پر جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں ان کو ریکارڈ کریں چنانچہ انہوں نے اب تک جو مضامین اکٹھے کر کے مجھے دیئے ہیں ان میں بعض ایسے مضامین ہیں جو فی الواقعہ پڑھے نہیں جاسکتے۔۵۰ ہزار سے زائد مسلمان خواتین کی جس دردناک ظالمانہ طریق پر بے حرمتی کی گئی ہے اس کی تفصیل بیان کرنے کا نہ یہ موقع ہے، نہ مجھ سے ہو سکے گی لیکن ان میں سے اکثریت کو پھر بہیمانہ سلوک کے بعد بڑے ہی نا قابلِ بیان طریق پر یا ذبح کیا گیا ہے یا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے گولیاں مار کر مارا گیا ہے اتنے مظالم ہیں کہ آپ ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کس طریق پر کیسے کیسے مظالم توڑے گئے اور بہت سے ایسے مظالم ہیں جہاں ظلم کرنے والوں نے بعض دوسرے یورپین انٹرویو لینے والوں کو انٹرویو کے دوران بڑے فخر سے بتایا کہ ہم یہ کرتے ہیں اور ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے تو بہت ہی درد ناک حالات ہیں اور یہ دردناک حالات ایک غیر منصفانہ دور میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔یہ دور نا انصافیوں کا دور ہے۔یہ جو New World Order کا تصور ہے یہ کوئی خدا کا تقویٰ رکھنے والوں کا تو نیو ورلڈ آرڈر نہیں ہے۔یہ اللہ سے اور بندوں سے محبت رکھنے والوں کا