خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1007 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1007

خطبات طاہر جلد ۱۲ 1007 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء یعنی وہ دونوں طرف سے ہمارے پروگرام سن سکے گا اور سارا افریقہ اس کی لپیٹ میں ایشیا اور یورپ کو ملا کر آجاتا ہے۔روس کا آخری کنارہ جو مشرق کی طرف ہے وہ بھی اس میں شامل ہے اور مغرب کی طرف اور جنوب کی طرف پرتگال کا ملک شامل ہے شمال میں ناروے کا انتہائی شمالی حصہ شامل ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ اب یورپ میں بھی اور ساتھ تعلق رکھنے والے حصہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے یقیناً ساڑھے تین گھنٹے روزانہ کا پروگرام بنایا جایا کرے گا۔سب سے بڑی مشکل جو زیادہ وسیع پروگراموں کے سلسلے میں پیش آتی ہے وہ سافٹ وئیر (Software) یعنی پروگراموں کی تیاری ہے۔بارہ گھنٹے روزانہ کا پروگرام ویڈیو پر بنانا یہ اتنا بڑا کام ہے کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا یہی ایک جھجک تھی جس کی وجہ سے میں نے پچھلے سال خواہش کے باوجود اس کو ملتوی کر دیا تھا اب حالات کے تقاضے ایسے ہیں کہ اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا تھا۔غیر معمولی طور پر نئے علاقوں کا ،نئی قوموں کانٹے مزاج کے لوگوں کا نئی زبانیں بولنے والوں کا احمدیت کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور طلب اتنی بڑھ چکی ہے کہ ناممکن ہو گیا ہے کہ جماعت احمدیہ حض لٹریچر کے ذریعہ ان پیاسوں کی پیاس بجھا سکے۔لازم ہو گیا تھا کہ ہم ایک وسیع پروگرام کے ذریعے دنیا کی اکثر آبادی تک ٹیلی ویژن کے ذریعے پہنچ سکیں۔خدا کے فضل سے ڈش انٹینا کا رواج دنیا میں اب بہت بڑھ گیا ہے ہم جس دائرے میں کام کریں گے لازماً ایک کروڑ سے زائد آدمی ان پروگراموں کو دیکھنے والے ہوں گے۔ہم نے جو ڈش انٹینا کا شیشن لیا ہے وہ ایسا ہے کہ اس علاقے میں آج جو ہر دلعزیز پروگرام دکھائے جا رہے ہیں ان کے بالکل قریب واقع ہے اس لئے ہندوستان کے لوگ جس ڈش انٹینا کے ذریعے اپنے محبوب پروگرام دیکھتے ہیں اسی پر وہ ہمارے پروگرام بھی سن اور دیکھ سکیں گے۔اس پہلو سے جماعت کی تبلیغ کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔جہاں تک پروگراموں کا تعلق ہے گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے انگلستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ، خواتین اور مرد سینکڑوں کی تعداد میں محنت کر رہے ہیں ان کے گروپ بنا کر میں نے ہدایت کی تھی کہ اس طرح کام کرو تو ابھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ اللہ کے فضل سے تقریباً جنوری کے ہیں دنوں کا پروگرام یعنی بارہ گھنٹے روزانہ کے حساب سے تو وہ مکمل کر چکے ہیں اور باقی کام ابھی جاری ہے۔علاوہ ازیں باقی دنیا کی جماعتوں کو میں نے نصیحت کی تھی اور تفصیل سے ہدا یتیں دی تھیں کہ آپ اپنے اپنے ملک کے نقطہ نگاہ سے اور اپنے ہاں بولی جانے والی بولیوں کے نقطہ نگاہ سے خود