خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1006
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1006 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء اب میں جماعت احمد یہ عالمگیر کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ماریشس کی سرزمین کی یہ خوش قسمتی ہے کہ آج اس مبارکباد کے ساتھ جو میں ایک تاریخی تحفہ جماعت احمد یہ عالمگیر کی خدمت میں پیش کرنے والا ہوں۔اس کے اعلان کی سعادت اس سر زمین کو حاصل ہو رہی ہے اور وہ تاریخی تحفہ یہ ہے کہ جب ہم نے سیٹلائٹ کے ذریعے سب دنیا سے رابطے کا آغاز کیا تو جمعہ کا ایک گھنٹہ یا کچھ زائد وقت یا کچھ جلسوں اور اجتماعات کے موقع پر ایک دو گھنٹے زائد ملا کرتے تھے۔احباب جماعت عالمگیر کی طرف سے بار بار اس خواہش کا اظہار ہوتا تھا کہ آپ نے عادت ڈال دی ہے۔اب ایک ہفتہ انتظار نہیں ہوتا کوشش کریں کہ خواہ کچھ بھی خرچ کرنا پڑے، روزانہ یہ پروگرام جاری ہو۔آج میں نئے سال کے تحفہ کے طور پر ماریشس کی سرزمین سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ سے ایشیا کے لئے جاپان سے لے کر افریقہ تک اور اس علاقے میں براعظم آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ہفتہ میں ایک گھنٹہ کی بجائے ہفتہ میں ساتوں دن بارہ گھنٹے روزانہ پروگرام چلا کرے گا اور خدا کے فضل سے یہ پروگرام اب مستقل طور پر اسی سیارے سے جاری رہے گا جس کا جماعت کو علم ہو چکا ہے اور وہ اپنے انٹینا کے رخ اس طرف کئے بیٹھے ہیں اب بیچ میں تبدیلیاں نہیں ہوں گی۔پہلے جو بار بارتبدیلی کرنی پڑتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک گھنٹے کی اہمیت کوئی نہیں ہے بڑی بڑی کمپنیاں ایک گھنٹے والے کو سرکا کے کبھی ادھر پھینک دیتی ہیں کبھی ادھر پھینک دیتی ہیں۔جو بڑے گا ہک ہیں ان کی خاطر ایک گھنٹہ والے کو قربان ہونا پڑتا ہے جب ہم اصرار کرتے تھے کہ ہمیں لندن کے ڈیڑھ بجے والا وقت ضرور رکھنا ہے تو کہتے تھے کہ اچھا پھر ہم تمہیں کسی اور سیارے میں پھینک دیتے ہیں۔اب ہمارا ان کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ معاہدہ آئندہ سالوں میں بھی جاری رہے گا اور یہ سیارہ جو ہمارے لحاظ سے بہت زیادہ موزوں ہے ، اس کے ذریعے آئندہ تمام ایشیا کی جماعتیں ، تمام افریقہ کی جماعتیں اور خدا کے فضل کے ساتھ شمالی افریقہ کی جماعتیں بھی (جنوبی افریقہ کے متعلق میں ابھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، غالبا وہ بھی شامل ہوں گے ) اور آسٹریلیا بھی ، یہ سارے ممالک جن کا میں نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ روزانہ بارہ گھنٹے کا پروگرام سن سکیں گے اور دیکھ سکیں گے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے سر دست ہم نے روزانہ ساڑھے تین گھنٹے کا وقت حاصل کر لیا ہے اور اس کے اندر شمالی افریقہ بھی شامل ہے یعنی یورپ کا یہ جو دائرہ ہے، شمالی افریقہ تک بھی محیط ہے