خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1000 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1000

خطبات طاہر جلد ۱۲ 1000 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء وقف جدید کا جو بیرون کا حصہ ہے یعنی وقف جدید کا ایک تعلق تو پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے ہے اور شروع میں وقف جدیدا انہی ممالک سے مخصوص رہی چندوں کے اعتبار سے بھی اور خدمت کے اعتبار سے بھی۔چند سال پہلے میں نے یہ اعلان کیا کہ جہاں تک چندوں کا تعلق ہے سب دنیا کو وقف جدید کی تحریک میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تھا تو ہندوپاک اور بنگلہ دیش میں چندے جمع کئے جاتے تھے اور اسے ساری دنیا پر خرچ کیا جاتا تھا اب جبکہ ساری دنیا میں جماعتیں مستحکم ہو چکی ہیں تو اسی اصول کے تابع کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : (۶) کوشش کرنی چاہئے کہ باہر سے چندہ اکٹھا کر کے اب ان ممالک میں وقف جدید کے مقاصد پر خرچ کریں۔اس پہلو سے جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی اخلاص کے ساتھ لبیک کہا گذشتہ سال کے آغاز پر میں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بیرونِ پاکستان کا چندہ اب کروڑ کے قریب پہنچ چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت ذرا مزید کوشش کرے تو اس سال کے اختتام تک انشاء اللہ بیرون کا چندہ ایک کروڑ سے زائد ہو سکتا ہے۔جس وقت میں نے یہ اعلان کیا اس وقت پاکستان سمیت کل وعدہ جات ایک کروڑ باون لاکھ چھیالیس ہزار آٹھ سو چھیاسٹھ روپے کے تھے اور بہت بڑی رقم جو درمیان میں رہ گئی تھی وہ وصولی میں کی تھی۔پھر بھی مجھے یہ یقین تھا اور یہ میرا لمبا تجربہ ہے کہ یہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے، ایک اعجازی جماعت ہے اس جماعت سے جتنی بھی بڑی توقعات کی جائیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں پورا کرتا چلا جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر بعض دفعہ ایک ناممکن بات بھی ممکن ہوتی دکھائی دیتی ہے پس اسی امید پر میں نے یہ اعلان کیا تھا۔آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ 1993ء میں وقف جدید کی مجموعی وصولی ایک کروڑا کا نوے لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے اس میں سے اگر پاکستان ، بنگلہ دیش وغیرہ کا وعدہ نکال دیا جائے تب بھی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے باہر کی وصولی ہے اور پاکستان ، بنگلہ دیش اور بیرون ممالک کی وصولی ملا کر ایک کروڑا کا نوے لاکھ اڑسٹھ ہزار باسٹھ روپے ہوئی ہے۔جہاں تک بیرون کے وعدوں کا تعلق ہے وہ ترانوے لاکھ انتیس ہزار تین سو بہتر روپے کے تھے جبکہ وصولی ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ اکتیس ہزار تین سو پانچ روپے تک پہنچ گئی۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت نے اس توقع کو بہت نمایاں طور پر پورا کیا اور میں