خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 932 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 932

خطبات طاہر جلدا 932 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء ۲۲۶۸۲ تعداد بنی ہے۔جو ۴۴۹۹ کے اضافے کی مظہر ہے۔گزشتہ سال۱۹۹۰ء کے آخر پر جب یہ رپورٹ مجھے پیش کی گئی تو میں نے مال والوں سے اس توقع کا اظہار کیا یا شاید خطبہ میں کہا ہوگا کہ بیرونِ پاکستان عنقریب چندہ وقف جدید میں انشاء اللہ ایک کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔اب تک جو وصولیاں ہوئی ہیں اس کو اگر ہم پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو تین ممالک کو چھوڑ کر باقی ممالک کی کل وصولی ۷۶ لاکھ 94 ہزار روپے ہوگئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عنقریب اگلے سال یا اس سے اگلے سال انشاء اللہ یہ کروڑ سے اوپر نکل جائے گی۔افریقہ کے ممالک میں بہت ہی زیادہ غربت ہے اور جب میں ان کے اعدادو شمار پڑھ کر سناتا ہوں تو ان کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں ، رحم کی نظر سے بھی دیکھیں اور دعا کی نظر سے دیکھیں کہ اللہ تعالی انکی تو فیق بڑھائے ورنہ مجھے علم ہے کہ افریقہ کے ممالک میں خدا کے فضل سے اخلاص کے لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہے لیکن صرف ایک وجہ نہیں ہے کہ وہ وقف جدید کی تحریک میں اتنا پیچھے رہ گئے ہیں ایک اور وجہ یہ ہے کہ وقف جدید کے سیکریٹریان کا قصور معلوم ہوتا ہے ورنہ بعض دوسری مالی تحریکات میں وہ تصویر جو وقف جدید نے پیش کی ہے اس سے بہت بہتر تصویر ابھرتی ہے تو یہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ انتظامیہ کا قصور ہے وقف جدید کو اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ وقف جدید کا نظام وہاں واقعہ جاری ہو چکا ہے۔دیہاتی معلمین جگہ جگہ کام کر رہے ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ ہمارے مرکزی مبلغین جو ہیں وہ دیہاتی معلمین کے محتاج رہتے ہیں کیونکہ افریقہ کے دیہاتی معلمین میں تقریر کا ایک ایسا ملکہ ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ ان کا کوئی روایتی فن ہے جو ان کے خون میں چلا آرہا ہے اس لئے معمولی تعلیم والے بھی جب کسی صاحب علم کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کی ہر بات کو ایسی عمدگی سے پیش کرتے ہیں کہ ایک تموج سننے والوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے آواز کی لہریں آپ دیکھنے لگ گئے ہیں۔ان کے اندر عجیب قسم کی سنسناہٹ سی دوڑ نے لگتی ہے۔میں جب دورے پر وہاں گیا تھا تو بڑے بڑے عالم میری تقریر کے ترجمے ایسے نہیں کرتے تھے جتنا یہ دیہاتی معلم کرتے تھے۔بہت غریبانہ حالت میں یہ بیچارے کام کر رہے ہیں۔اگر افریقہ کے ممالک وقف جدید کی طرف توجہ کریں تو یہ سارا روپیہ انھیں