خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 931

خطبات طاہر جلدا 931 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء اور اس طرح لوگوں نے قربانیاں دیں اور آپ نے ۱۲۱ کو بنا دیا تو اب میں بڑی معذرت کے ساتھ اور شرمندگی کے ساتھ اس غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان کا چندہ تحریک جدید ۲۱ فی کس تھا لیکن جاپان کو پھر بھی پیچھے نہیں چھوڑ سکے وہ پھر بھی آگے ہی رہتا ہے الحمد للہ بہر حال یہ اب بھی چوتھے نمبر پر ہیں امریکہ ۲۱۔۸۹ فی کس تک پہنچ گیا ہے ساؤتھ افریقہ ۱۸۔۹۰ اور کوریا ۱۳ پاؤنڈ اور ڈنمارک ۱۰۳ پاؤنڈ اور فرانس ۴۷ ۱۰ پاؤنڈ اور جرمنی ۹۔۴۳ پاؤنڈ۔جرمنی بظاہر بہت پیچھے دکھائی دے رہا ہے لیکن جرمنی میں احمدی کی فی کس آمد اتنی زیادہ نہیں ہے جتنا ان کے چندوں سے معلوم ہوتا ہے۔بچوں وغیرہ کی بہت بڑی تعداد ہے جو بغیر کسی آمد کے ہیں اور جرمنی میں باقی سب تحریکوں میں بھی چونکہ بہت محنت کے ساتھ ہر احمدی کو شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے جرمنی کو اتنا پیچھے نہ سمجھیں۔یہ اعداد وشمار کے قصے ہیں یہ ان کے کرشمے ہیں۔بعض اچھے کام کرنے والوں کو پیچھے دکھاتے ہیں بعض کمزور کام کرنے والوں کو آگے دکھا دیتے ہیں اصل دعا تو یہ کرنی چاہئے کہ اعداد و شمار کی زبان میں نہیں بلکہ خدا کے ہاں ہم آگے لکھے جائیں اللہ کی نظر میں ہمارا مقام بلند ہو۔اگر یہ نصیب ہو جائے تو اعداد و شمار کی زبان کچھ بھی کہتی رہے اس کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی مگر انسانی کمزوریاں ہیں ، مجبوریاں ہیں۔بات سمجھانے کے لئے اعداد و شمار کی زبان بھی ضرور استعمال کرنی پڑتی ہے۔اسکے فائدے بھی پہنچتے ہیں۔بیرونِ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش کی جو مجموعی شکل ہے وہ یہ بنتی ہے ( یہ وہ تین ملک ہیں جہاں آغاز ہی سے یہ تحریک جاری تھی) نئے دور میں جوتحریک ان کے علاوہ باقی ممالک میں جاری ہوئی ہے ان کی مجموعی وصولی ۱۹۲۳۱۱ پاؤنڈ بنتی ہے اور تعداد مجاہدین ۲۲۶۸۲ ہے سالِ گذشتہ سے موازنہ کے لحاظ سے آپ دیکھیں کہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش کے علاوہ جماعتوں نے واقعہ بہت ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ فرمایا ہے۔۱۹۹۱ء میں وعدہ جات ۹۶۵۹۸ تھے ، وصولی ۱۰۵۹۶۳ تھی۔۱۹۹۲ء میں وعدہ جات ۳۱۶۷۴ اتھے جبکہ وصولی ۱۹۲۴۱۱ ہے۔گویا کہ وعدوں کے مقابل پر وصولی میں بھی نہ صرف اضافہ ہے بلکہ اضافے کی رفتار میں بھی اضافہ ہے یعنی پچھلے سال ۳۸۔۳۸ فیصد اضافہ تھا۔امسال ۸۱۔۵۸ فیصد اضافہ ہے تو اللہ کرے کہ یہ رفتار اسی طرح آگے بڑھتی رہے تو تعداد مجاہدین کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے نمایاں فرق ہے ۱۸۰۰۰ کے مقابل پر