خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 892 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 892

خطبات طاہر جلد ۱۱ 892 خطبہ جمعہ ا ار دسمبر ۱۹۹۲ء کہ چوری کے مال پر کیسے عبادت ہو سکتی ہے ،ڈاکے کے مال پر کیسے عبادت ہوسکتی ہے لیکن یہ تو الگ باتیں ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ دس مساجد اس وقت میرے علم میں ہیں جن کے نام میں نے پڑھ کر سُنائے ہیں۔ان کو منہدم کیا گیا اور ان میں سے بعض ایسی ہیں جن میں چوبیس چوبیس گھنٹے تک کارروائی جاری رہی ہے اور کوئی حکومت وہاں دکھائی نہیں دیتی تھی۔تو مسجد میں مسمار کرنے والوں کی تائید میں دکھائی دیتی تھی چنانچہ ہمارے پاس تصویریں ہیں، مردان کی مسجد شہید ہورہی ہے لوگ چوری کا مال اُٹھا اُٹھا کر لے جا رہے ہیں اور پولیس ساتھ کھڑی حفاظت کر رہی ہے کہ کہیں کوئی آکر ان پر حملہ آور نہ ہو جائے حالانکہ جو نمازی تھے ان ساروں کو قید کر لیا گیا تھا بچوں کو بھی بڑوں کو بھی سب کو اکٹھا سمیٹ سماٹ کر ٹرکوں میں بھر کر حوالات میں بھیجا جا چکا تھا اور جب تک مسجد کی یہ کارروائی مکمل نہیں ہوئی ان کو چھوڑا نہیں گیا۔اتنے احتیاط کے ساتھ یہ سارے کام ہوئے اور آج پاکستان کے اخبار یہ لکھ رہے ہیں کہ اجودھیا میں جو واقعہ گزرا ہے یہ اچانک تو نہیں ہو گیا۔حکومت اس وقت کہاں تھی جو مسجد منہدم کی گئی ہے یہ کوئی ایک گھنٹے آدھے گھنٹے کی کارروائی تو نہیں تھی اس پر تو پورا دن لگ گیا ہوگا اور دن لگ گئے ہوں گے کیا ہندوستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی اور پھر اخبارات نے یہ لکھا ہے کہ حکومت تو تھی لیکن لوٹنے والوں اور منہدم کرنے والوں کی تائید میں کھڑی تھی پولیس ان کے ساتھ شامل تھی فوج اُن کے ساتھ شامل تھی اور ان سب سے مل کر یہ کارروائی ہوئی ہے اس لئے ہر عبادت کرنے والے کے لئے ایک چیلنج ہے۔خدائے واحد و یگانہ کی وحدانیت پر ڈاکے مارے جارہے ہیں، اُٹھ کھڑے ہو اور اپنے انتقام لو۔اگر خدا کی محبت اور اس کی وحدانیت کی محبت کے یہ تقاضے تھے تو کل ان تقاضوں کو کیوں موت آگئی تھی اگر کل یہ تقاضے مر چکے ہیں تو آج بھی زندہ نہیں ہوئے اور ان مردہ تقاضوں کی خدا کی تقدیر کو کچھ بھی پرواہ نہیں۔جب تم خدا کے گھر کا تقدس لوٹنے والوں سے ایک جگہ محبت اور پیار کا سلوک کرتے ہو ان کو اپنی تائید مہیا کرتے ہو، ان کی پشت پناہی کرتے ہو تو کل جب تمہارے ساتھ یہ ہوگا تو کس طرح خدا سے توقع رکھتے ہو کہ خدا کی تقدیر تمہاری پشت پر آکھڑی ہوگی۔یہ تقدیریں وہی ہیں جو ہمیشہ سے اسی طرح چلی آرہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار متنبہ کیا کہ دیکھو تم جو حرکتیں کر رہے ہو یہ ضائع نہیں جائیں گی خدا کی تقدیر ضرور تمہیں پکڑے گی۔