خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 872
خطبات طاہر جلد ۱۱ 872 خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۹۲ء بیان کی گئی ہے، شریعت پر مبنی حکومت بیان نہیں فرمائی۔جہاں دنیاوی حکومت کا مضمون آئے گا وہاں ہمیشہ آپ عدل کے مضمون کو ساتھ دیکھیں گے اور عدل کی حکومت ہی دراصل مثالی سیکولر حکومت کو کہتے ہیں۔اگر عدل سے حکومت کی جائے تو مذہب کی تفریق کو دخل اندازی کی اجازت ہی نہیں مل سکتی۔پس جس جس نے بھی عدل کی خیانت کی اُس نے قرآن کی خیانت کی ، اُس امانت کی خیانت کی ہے جو خدا نے ہر حاکم کے اوپر ڈال دی ہے۔کچھ معاملے تو اس دنیا میں طے ہوں گے تو کچھ اس دنیا میں طے ہوں گی مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی ناانصافیوں کے بدلے دنیا میں بھی ضرور دیئے جاتے ہیں۔دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دی جاتی ہے۔بہر حال یہ مضمون سمجھا کر واپس اُسی مضمون کی طرف آتا ہوں کہ ہم نے امانتوں کے حق ادا کرنے ہیں ، خائن لوگوں کی تقدیر کے فیصلے خدا فرمائے گا اور قرآن کریم نے وہ فیصلے آج ہی لکھ چھوڑے ہیں۔قرآن کی تحریر کو دنیا میں کوئی بدل نہیں سکتا لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں لازماً امانت کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔امانت ہی میں جماعت احمدیہ کی بقا ہے۔امانت ہی کے نتیجے میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس دنیا میں بھی سرخروی نصیب ہونی ہے اور آخرت میں سرخروی نصیب ہونی ہے۔امانت کے بغیر نظام جماعت کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہتا۔پس پہلے تو اپنی ذاتی امانتوں کی روزمرہ کے معاملات میں حفاظت کریں۔آپ کو امین بنایا گیا ہے دنیا کے معاملات میں بھی اور دین کے معاملات میں بھی۔دنیا کے معاملات میں بچوں کی امانت ہے، بیوی کی امانت ہے، دوستوں کی امانت ہے، تجارت کے معاملات میں ایک دوسرے کی امانتیں ہے ان ساری باتوں میں امانت کا حق ادا کریں امین بن جائیں۔جب امین بنتے ہیں تو پھر خدا کی امانت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔جب تک آپ دنیا میں امین نہیں بنیں گے، اللہ کی امانت کو اٹھانے کی اہلیت ہی آپ میں پیدا نہیں ہو سکتی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کو بچپن سے جو امین کہا جاتا تھا دراصل اُسی وقت اعلان ہو گیا تھا۔دنیا میں لوگوں کے منہ سے جو باتیں نکل رہی تھیں، یہ امین ہے، یہ امین ہے، جس گلی سے گزرتے تھے امین امین کی آواز میں اٹھتی تھیں۔مستقبل میں ہونے والے عظیم واقعہ کی طرف اشارہ تھا یہ بتایا جا رہا تھا کہ خدا اپنی امانت امینوں کے