خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 848
خطبات طاہر جلد ۱۱ 848 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء خاص کوشش کے اس منظر کے پہلو، اُن حصوں میں نمایاں ہوتے ہیں جہاں اُن کو ہونا چاہئے۔جب آپ کسی جگہ سیر کرتے ہوئے کسی منظر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دوہی چیزیں ہیں جو آپ کی نظر کو پکڑتی ہیں ور نہ بعض اتنے وسیع مناظر ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ اُس کے ہر حصے پر آپ نظر کو ٹکائیں اور پھر غور کریں کہ یہاں کیا ہے اور وہاں کیا ہے اور وہاں کیا ہے؟ لیکن دو حصے فورا آنکھ پر از خود روشن ہو جاتے ہیں۔ایک حسن کا حصہ ہے اور ایک بدزیبی کا ، بدصورتی کا حصہ ہے۔منظر میں جہاں کوئی بدصورتی ہوگی یاوہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آئے گی ، جہاں کوئی غیر معمولی حسن پایا جائے گا وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آئے گا۔پس جماعتوں کو دیکھتے ہوئے بھی اسی قسم کے تجربے ہوتے ہیں کہ خود بخود جماعت کے حسن بھی کھل کر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں اور خود بخود جماعت کی کمزوریاں بھی بڑی واضح طور پر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔جن کمزوریوں کی طرف میں توجہ دلانے لگا ہوں۔یہ اکثر جماعتوں میں موجود ہیں اور بہت کم ایسی جماعتیں ہیں جو ان کمزوریوں سے صاف پاک ہیں اور ان کمزوریوں کا تعلق عہدیداروں کی امانت سے ہے۔مثلاً جب میں سفر کرتا ہوں یا کرتا رہا ہوں تو ایک چیز میرے سامنے آتی ہے خصوصیت کے ساتھ کہ جماعت نے اشاعت کے سلسلے میں جو خدمات سرانجام دی ہیں اُن خدمات کو نہ جماعت کے سامنے لانے کی بچی کوشش کی گئی ہے ، نہ غیروں کے سامنے لانے کی سچی کوشش کی گئی ہے۔دنیا کی جماعتوں کو شاید یہ علم نہیں کہ گزشتہ آٹھ سال میں جو ہجرت کے آٹھ سال یہاں گزرے ہیں اتنا اس کثرت سے ، اتنی زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا ہے کہ جماعت کے گزشتہ سوسال میں اس کثرت سے دنیا کی زبانوں میں لٹریچر شائع نہیں ہوا۔یہ کوئی نعوذ باللہ گزشتہ سو سال پر فضیلت کے رنگ میں بیان نہیں کر رہا۔لٹریچر کی بنیاد تو وہی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے اور بعد میں آپ کے خلفاء نے رکھی سلسلے کے بزرگوں نے کام کئے لیکن وہ ذرائع مہیا نہیں تھے جن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ساری دنیا میں مختلف زبانوں میں احمدیت کا پیغام اور قرآن وسنت کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہو۔خدا تعالیٰ نے ہجرت کے انعام کے طور پر ہمیں وہ ذرائع مہیا فرمائے اور اس کثرت سے جماعت کا لٹریچر دنیا کی مختلف زبانوں میں طبع ہوا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی بلکہ گزشتہ سو سال میں سارے عالم اسلام کی کوششوں سے اتنا