خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 838
خطبات طاہر جلد ۱۱ 838 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء ہوتے ہیں جن کا حق تمہارے اموال میں آجاتا ہے اگر تم ادانہیں کرو گے تو حق مارنے والے اور خائن کہلاؤ گے۔میں خیانت کا مضمون ان پر زبردستی چسپاں نہیں کر رہا۔قرآن کریم نے جو باتیں بیان فرمائی ہیں انہی کی روشنی میں یہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ان کے اموال میں تو خدا جانے خدا کے کتنے بندوں کے حق شامل ہو چکے ہیں لیکن آج انہوں نے بوسنیا والوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا رد عمل آپ دیکھیں۔ایک مغربی ملک میں جب ہمارے نمائندے میری اس ہدایت کی وجہ سے پہنچے کہ بوسنیا کے مظلوموں کو تلاش کر کے ان سے ہمدردی کی جائے ، ان کی خدمت کی جائے ، ان کو کپڑے دیئے جائیں اور ان کو زندگی میں بحال کرنے کے لئے اور جو بھی کوشش ہے وہ کی جائے۔اس گروہ کی سر براہ ایک عورت تھی اس نے ان سے ملنے سے صاف انکار کر دیا۔اس نے کہا تم مسلمان ہو؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں کسی مسلمان سے خود ملوں گی نہ کسی کو ملنے دوں گی۔اس پر انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے ہم مسلمان ہیں ہمدردی سے آئیں ہیں۔اس نے کہا اپنی ہمدردیاں اپنے گھر رہنے دو ہم نے مسلمان ملکوں کی ہمدردیاں خوب دیکھ لی ہیں، بڑی بے غیرت قوم ہے۔اپنے مفاد کے لئے تھوڑی سی بات پر بھی بپھر جاتے ہیں اور سب دنیا میں شور مچاتے ہیں لیکن آج ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔پوری قوم کی قوم ہلاک کی جارہی ہے ، برباد کی جارہی ہے،صفحہ ہستی سے مٹائی جارہی ہے لیکن ان کو کوئی فکر نہیں ہے تو تم مسلمان ہو تو ہم تم سے نہیں ملیں گے۔عیسائی ہماری نگہداشت کر رہے ہیں یہی ہمارے لئے کافی ہے۔چرچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں عیسائی منادان تک پہنچتے ہیں، عیسائی خدمت کرنے والے رضا کار ان کو سنبھال رہے ہیں لیکن وہ خود مسلمانوں سے ملنے سے گریزاں ہیں۔تب ہمارے وفد نے ان کے نمائندہ کو سمجھایا۔منت کی کہا کہ دیکھو ! ہم وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو ہم تو خود ان کے مارے ہوئے ہیں۔تم بات تو سن لو ہم کیوں آئے ہیں۔چنانچہ پھر ان کا غصہ آخر کچھ ٹھنڈا ہوا۔انہوں نے جب جا کر ان کو سمجھایا کہ یہ ہماری عالمگیر جماعت ہے ، ہم یہ کر رہے ہیں۔ہم تمہاری خدمت کرنا چاہتے ہیں تم سے ہمارا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے، صرف یہ مفاد وابستہ ہے کہ اگر ہم تمہاری خدمت کریں گے تو ہمارے دلوں کی بے چینی کم ہوگی ، ہم جس عذاب میں مبتلا ہیں وہ عذاب تھوڑا سا ٹھنڈا ہوگا ،ہم تو تمہارے غموں میں مر رہے ہیں اس لئے ہمیں خدمت کا موقعہ دو۔پھر ان کی کیفیات بدلیں اور وہ کہتے ہیں کہ پھر یکسر پلٹ گئی، اچھا یہ مسلمان بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔تو امانت میں خیانت جب بڑے بڑے لوگ کرتے ہیں جن کو