خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 800 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 800

خطبات طاہر جلدا 800 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۹۲ء أَسْلَمْنَا پھر بھی ہم تمہیں حق دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہو۔ایسی حالت میں بھی اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق ہے تمہیں کہ وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ایمان نے تمہارے دلوں میں جھانکا تک نہیں، داخل ہی نہیں ہوا۔لیکن تم کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے خدا کہتا ہے کہ ایمان نہیں لائے واضح بات ہے لیکن تمہیں مسلمان کہلانے کا حق پھر بھی رہتا ہے۔محمد مصطفی سے بھی تمہیں اسلام کی طرف منسوب ہونے کے حق سے محروم نہیں کرتے۔یہ وہ آیت کریمہ ہے جس نے ساری بات کھول دی نُورٌ عَلَى نُورٍ (النور: ۳۶) کا منظر دکھائی دیتا ہے۔اس آیت کریمہ کے نزول سے پہلے بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کبھی کسی کو اس کے دعوے کے خلاف مسلمان کہلانے کے حق سے محروم نہیں فرمایا۔اس آیت کے بعد تو ناممکن ہو جاتا ہے۔آج کے ملاں اگر یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمیں حق حاصل ہے تو اپنی بدبختی اور بدنصیبی کا دعوی کرتے ہیں۔محمد رسول اللہ سے بڑھ کر دعوی کرتے ہیں اور کوئی دنیا میں ایسا شخص نہیں ہے جو محمد مصطفی ہے۔بڑھ کر روحانی طاقتیں رکھنے کا یا عالمانہ طاقتیں رکھنے کا دعوی کرے اور خدا کے ہاں مردود نہ ٹھہرے۔پس ان مردودوں کے پیچھے چل کر تم اپنے نصیب کیوں اُجاڑتے ہو بگاڑتے ہو۔خدا حق نہیں دے رہا اور یہ حق لے رہے ہیں اور تمہیں بھی کہتے ہیں کہ آؤ اس چوری کے حق سے تم بھی استفادہ کرو۔تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔اس لئے جو غلطیاں پہلے ہوئی ہیں ان غلطیوں کا اعادہ نہ کرو اور تو بہ کرو، جہاں تک مسلمان کہلانے کے حق کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ نے اس بات کی بھی اجازت نہیں دی کہ کسی کو یہ کہو کہ تمہارے دل میں نہیں ہے کیونکہ دل میں نہیں کا دعویٰ خدا کر سکتا ہے۔محمد مصطفی " نے بھی ایمان کی نفی تب کی جب خدا نے خود بتایا کہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے اس کے باوجود مسلمان ہونے کا دعوے کا حق ان کو دیا اور اس حق کو سب نے استعمال کیا۔جہاں تک یہ بات کہنے کا تعلق ہے ایک عام آدمی کے لئے کہ تمہارے دل میں نہ ایمان ہے نہ اسلام اس صورت حال پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ عظیم واقعہ میں آپ کے سامنے رکھ کر میں اس خطبے کوختم کرتا ہوں۔احمدیوں کے سامنے تو بار بار یہ واقعہ پیش کیا جارہا ہے مگر میں امید رکھتا ہوں کہ بنگال تک بھی یہ آواز پہنچ رہی ہوگی اور بنگال کے غیر احمدی مسلمانوں اور دیگر دانشوروں کے سامنے یہ صورت حال خوب کھول کر پیش کرنی چاہئے کہ آنحضرت میہ کا کیا فیصلہ ہے اس کے مقابل پر مولوی