خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 793 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 793

خطبات طاہر جلدا 793 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء نہیں رہا جو اس پر شور نہ ڈال رہا ہو، پکار نہ کر رہا ہو کہ کیا ہو گیا ہے۔کیا خدمت تم نے کی ہے خدا تعالیٰ کی اور دین کی جس کے نتیجے میں یہ سزائیں مل رہی ہیں؟ وہ واضح خدمت ہے۔۱۹۷۴ء کے بعد سے آج تک پورے ملک کو امن نصیب نہیں ہوا۔تو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم محترمہ کو اور وہاں کے دانشوروں کو میں سمجھا تا ہوں ، ایک غریبانہ، عاجزانہ نصیحت ہے کہ ان جہالتوں کا اعادہ نہ کریں جو ظلمات بن کر آپ کو ایسا گھیر لیں گے کہ ان ظلمات سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پائیں گے آپ۔پہلے ہی غریب ملک ہے، کئی قسم کے حوادث کا شکار ہے، غربت اتنی ہے کہ کم ہی کسی ملک میں اتنی غربت ہوگی اور پہننے کے لئے کپڑے میسر نہیں بچوں کو۔بھاری تعداد ایسی ہے جو لنگوٹوں میں یا معمولی ایک ایک چادر میں گزارے کرتی ہے۔ایک وقت کی روٹی مل جائے تو غنیمت سمجھی جاتی ہے۔اس کے اوپر خدا کا غضب سہیڑ بیٹھیں اور خدا کو ناراض کرنے کے لئے کوئی اقدام کر بیٹھیں ، بہت بڑی جہالت ہوگی اور تاریخ کبھی آپ کو معاف نہیں کرے گی اگر آپ نے ایسی بیہودہ حرکت کی۔صلى الله ملاں آپ کو اسلام کے نام پر یہ کہتے ہیں یہ عظیم الشان خدمت ہے کیونکہ نعوذ بالله من ذالک ایک شخص نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈال دیا ہے آپ کی خاتمیت پر ڈاکہ ڈال دیا ہے۔یہ ایسا بیہودہ محاورہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی ہے۔کون ہے؟ کس ماں نے وہ بچہ جنا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت پر ڈاکہ ڈال سکے آپ کی نبوت پر ڈاکہ ڈال سکے۔کوئی پیدا ہی نہیں ہوا ایسا شخص اور پیدا ہو تو خدا کی تقدیر اس کا نام ونشان اس دنیا سے مٹادے گی۔پس یہ محض بیہودہ محاورے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے سوائے جھوٹ کے ،سوائے فساد کے یہ زبان اور کوئی پیغام نہیں دیتی لیکن عوام الناس بلکہ سیاستدان بھی جہالت میں مبتلا ہو کر بعض دفعہ ان جھوٹے کھوکھلے نعروں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ڈاکہ ڈالا کیسے ڈاکہ ڈالا؟ ان سے پوچھیں اور پھر اگر تمہیں کوئی غیرت ہے تو پھر رسول کی غیرت رہ گئی ہے اور خدا کی غیرت کوئی نہیں۔آج دنیا میں بھاری اکثریت انسانوں کی ایسی ہے جنہوں نے خدا کی خدائی پہ تمہارے محاورے کے مطابق ڈاکے ڈال رکھے ہیں۔جو بُت پرست ہیں آج ان کی اکثریت ہے دنیا میں۔جنہوں نے خدا کے رسولوں کو خدا کا بیٹا بنا لیا ان کی بھاری اکثریت ہے اور وہ تمہارے محاورے کے مطابق خدا کی خدائی لوٹ بیٹھے، خدا کی عزتوں پر