خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 729

خطبات طاہر جلد ۱۱ 729 خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۲ء کیسے سکو گے۔یہ جو موجودہ پروگرام ہے آج کا ، جو پانچوں براعظموں میں بیک وقت دکھایا جارہا ہے اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کے مخلصین کو ملی ہے اور انہوں نے تنہا یہ بوجھ اٹھایا اور اس بوجھ کو سعادت سمجھ کر ، چومتے ہوئے اٹھایا۔بار بار درخواست کی کہ صرف آج کا جمعہ ہی نہیں۔ہماری جماعت کو اجازت دی جائے کہ اس کے بعد اگلے دن کا پروگرام بھی اور پھر آخری جمعہ جو کینیڈا میں پڑھا جانا ہے یہ ساری تقریبات جماعت احمدیہ کینیڈا کے خرچ پر تمام عالم میں دکھائی جائیں تو سرسری جواب تو یہی ہے کہ جماعت احمدیہ کینیڈا کو اللہ تعالیٰ نے یہ تو فیق عطا فرمائی ہے کہ آج ساری دنیا کے براعظموں میں جو پروگرام دکھایا جا رہا ہے اس کا بوجھ اُنہوں نے سعادت سمجھ کے اٹھا لیا لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ دین کی راہ میں قربانی کرنے والوں کو جو دل عطا ہوتے ہیں وہی ان کا خزانہ ہے، جو قربانی کی روح ان کو عطا ہوتی ہے وہی اُن کا خزانہ ہے۔اس خزانے میں اللہ تعالیٰ اتنی برکت ڈالتا ہے کہ کوئی عمر و عیار کی زنبیل کا تصور اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایسی حیرت انگیز قربانی کی روح جماعت احمدیہ کو نصیب ہوئی ہے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی ایسے انسان پیدا نہیں کر سکتیں جیسے ایک خدا کے بندے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ڈھالنے ، بنانے کی توفیق ملی۔ان معنوں میں جن معنوں میں حضرت مسیح مٹی سے پرندے بنایا کرتے تھے۔پس اے جماعت احمد یہ عالمگیر تم وہ مٹی کے پرندے ہو جن میں آسمانی روح پھونکی گئی ہے تمہارا مقدر تو اڑنا ہے، ہوا کے دوش پہ بھی اڑنا ہے ، لہروں کے ذریعے بھی پہنچنا ہے اور الحمد للہ کہ آج کا دن کئی لحاظ سے اُن روحانی طیور کی پروازوں کا وہ منظر پیش کر رہا ہے۔ایک احمدی نے مجھے پاکستان سے خط لکھا کہ مسیح کے آسمان سے نزول کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ آسمان سے آواز اتر رہی ہے اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔میں نے اُن سے کہا کہ یہ ایک ذوقی نقطہ ہے، دلچسپ بات ہے لیکن نزول مسیح تو ہو چکا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ہو چکا اسی کی برکتیں ہیں جو دنیا میں پھیلتی چلی جائیں گی۔جہاں تک آسمان سے آوازوں کے اترنے کا تعلق ہے یہ تو اُن مولویوں کو جواب ہے جو خدا کی طرف سے دیا جا رہا ہے، جنہوں نے ہماری آوازوں پر پاکستان میں پابندی لگائی، ہمارے جلسوں پر پاکستان میں پابندی لگائی، ہماری تبلیغ پر پاکستان میں پابندی لگائی، یہ جواب اُن کو جواب ہے کہ تمہاری ساری زنجیریں آسمان کی تدبیریں تو ڑ کر پرزے پرزے کر دیں گی۔کوئی