خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 66
خطبات طاہر جلد ۱۱ 99 66 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء نفس پر خرچ کرنے کی خاطر خرچ کرو۔فرمایا ہم جانتے ہیں کہ تمہار ا علیٰ مقصد خدا کی رضا ہے مگر جب خدا کی رضا حاصل ہو جاتی ہے تو محض دین میں نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں بھی رضا مل جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ایک نتیجہ ہے کہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنی جانوں پر خرچ کرتے ہو۔ان دونوں آیات کے ٹکڑوں کو ملا کر پڑھا جائے تو مضمون یہ بنے گا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو محض اللہ کے پیار کی خاطر اس کی محبت جیتنے کے لئے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو لیکن اس رضا کا ایک ظاہری نتیجہ بھی ضرور نکلے گا اور وہ یہ کہ تمہارے اموال میں ایسی برکت ملے گی کہ گویا تم دوسروں پر نہیں بلکہ خود اپنی جانوں پر خرچ کرنے والے تھے اور اس کی مزید تفسیر یہ فرمائی کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرہ :۲۷۳) اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یقین جانو وہ تمہیں خوب لوٹا یا جائے گا۔تُوَفَّ إِلَيْكُمُ میں صرف لوٹانے کا مضمون نہیں بلکہ بھر پور طور پر لوٹایا جائے گا اور تم سے کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔یہ ایک محاورہ ہے۔طر ز بیان ہے۔جب کہا جائے کہ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ نہیں ہے کہ محض عدل کیا جائے گا بلکہ بالکل برعکس مضمون ہوتا ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (البقرہ :۲۸۲) ان سے ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ ہوتی ہے کہ انہیں بہت زیادہ دیا جائے گا۔ظلم تو در کنار اتنا عطا ہوگا کہ احسانات ہی احسانات ہوں گے۔یہ ایک طرز بیان ہے جو مختلف زبانوں میں ہے۔عربی میں اور خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم میں اس طرز بیان کو اختیار فرمایا گیا تو لَا تُظْلَمُونَ ، وَلَا يُظْلَمُونَ) (النساء: ۱۲۴) کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ ظلم نہیں کرے گا جتنا دیا اتنا واپس کر دے گا۔مراد یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اتنا دے گا کہ تمہارے پیٹ بھر جائیں گے تم کانوں تک راضی ہو جاؤ گے۔یہ معنی ہے اس آیت کا۔یہ سب بیان کرنے کے بعد فرمایا لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اس وقت جو ہم خرچ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں تو یہ عام خرچ نہیں بلکہ خصوصیت سے ان فقراء کی خاطر خرچ ہے جو خدا کے رستے میں گھیرے میں آگئے اور ان میں زمین پر چل کر اپنے کمانے کے لئے گنجائش نہیں رہی۔وہ محبت کی رسیوں میں باندھے گئے اور ہمیشہ کے لئے محمد مصطفی ﷺ کے قرب میں انہوں نے ڈیرے ڈال دیئے حالانکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔کھانے کے بھی وہ محتاج ہیں۔پہنے کے