خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 680
خطبات طاہر جلدا 680 خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء معجزہ جانتے ہو یہ کیا تھا۔یہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں جس نے راتوں کو اٹھ کر ایک شور بر پا کر دیا اور آسمان سے وہ رحمت کی بارش برسی کہ صدیوں کے مردے جی اٹھے اور زندوں کے رنگ بدل گئے۔وہ الفاظ تو مجھے یاد نہیں مگر عجیب شوکت ہے ان الفاظ میں ، وہ شوکت سچائی کی شوکت ہے فصاحت و بلاغت کی نہیں۔جیسے اچانک ایک انسان حیرت انگیز راز کو پالیتا ہے اور اُس کے نتیجے میں اُس کے دل میں ایک عجیب ولولہ پیدا ہو جاتا ہے اور بے اختیار شدت کے ساتھ دل سے وہ مضمون پھوٹنے لگتا ہے کہ میں نے ایک عظیم الشان مضمون پالیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں بعض ایسے لحات ہیں جو یاد دلاتے ہیں فلسفی کی جو غور کر رہا تھا ایک مضمون پر اور دیر تک سوچتا رہا۔بالآخر اسے سمجھ آئی کہ یہ کیا مضمون ہے۔Gravitation بھی تھایا جس کا بھی تھا۔اچانک اُس نے شور مچادیا میں نے پالیا میں نے پالیا اور ایک راز پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علم و معرفت کے اتنے راز پائے ہیں کہ جب وہ راز آپ دریافت کرتے تھے تو بے اختیار دل بول اٹھتا تھا کہ سب دنیا کو سناؤں اور سب دنیا کو بتاؤں کہ میں نے پالیا اور کیا پایا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریریں پڑھتے وقت مناظراتی تحریروں میں نہ اٹکا کریں۔آپ پڑھتے پڑھتے اچانک ایسی جگہوں میں داخل ہوں گے جہاں ایک دم تحریر زندہ ہو کر زندگی سے اُبلنے لگتی ہے جیسے پہاڑی چشمے اُبلتے ہیں اور از خود اُس میں نشو ونما پھوٹتی ہے۔وہ مقامات ہیں جہاں حقیقت میں نبی کا عرفان حاصل ہوتا ہے، خدا والے کی حقیقت پتا چلتی ہے۔تو آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ لکھنا کہ جانتے ہو وہ کیا تھا ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تھیں اس نے سارے راز حل کر دیئے دعوت الی اللہ کے۔آخری بات دعوت الی اللہ کی یہی ہے ایک ایسی لگن دل میں پیدا کر لیں کہ آپ خود اپنے نگران بن جائیں ، دل میں ایک بیماری سی لگ جائے۔فرق محسوس ہولوگوں کو کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔محبت کسی کو ہو جاتی تو پہچانی جاتی ہے۔چھپائے نہیں چھپتی۔پس دعوت الی اللہ کا پیار بھی ایک ایسی چیز ہے جو چھپائے چھپ نہیں سکتی۔جس کو یہ لگن لگ ہو جائے وہ خود تلاش کرتا ہے، ڈھونڈتا ہے ، ہر وقت بے چین رہتا ہے، اُس کو پھل نہ ملے، اُس کو سکون