خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 649

خطبات طاہر جلدا 649 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء حضرت امیر المؤمنین کے فیصلے کے خلاف اعتراض اٹھایا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے سکون سے جواب دیا۔میں خدا کی تقدیر سے خدا کی تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں۔میرا خدا جیسا یہاں ہے وہاں بھی ہے اور اُس کی تقدیر خیر بھی ہے اور تقدیر شر بھی ہے تو میں اُس کی ایک تقدیر سے اس کے سوا کسی اور کی طرف نہیں جارہا اُسی کی تقدیر خیر کی طرف بھاگ رہا ہوں۔( بخاری کتاب الطب حدیث نمبر ۵۷۲۹) دیکھو مومن بھاگتا ہے تو خدا کی ایک تقدیر سے اُس کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگتا ہے۔شیطان کی تقدیر سے شیطان کی تقدیر کی طرف نہیں بھا گا کرتا۔پس وہ لوگ جو ہجرت کرتے ہیں خدا کے نام پر اور اپنی بدیاں ساتھ لے کر آتے ہیں اور اُن بدیوں میں مزید ملوث ہو جاتے ہیں۔وہ شیطان کی تقدیر سے شیطان کی تقدیر کی طرف جانے والے ہیں۔اُن کا تو خدا کی تقدیر سے بھاگ کر خدا کی تقدیر میں آنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا۔یہ بڑا کھلا امتیاز ہے۔ایک سچے مومن میں اور ایک فرضی مومن میں۔پس آپ اپنے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا کریں جو بتادیں ، وہ دنیا کو دکھا دیں کہ آپ نے ہجرت خدا کی طرف کی ہے اور کسی غیر کی طرف نہیں کی اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ، سب سے بڑا گواہ آپ کی عبادتیں ہیں۔اگر آپ عبادتوں پر قائم ہوں اور اُن کی نگرانی کریں اور آپ میں چھوٹا بڑا ایک دوسرے کا خیال رکھے، دعائیں بھی کریں منت اور گریہ وزاری کے ساتھ ، گریہ وزاری کرنی پڑے تو اپنے بھائیوں کو عبادت کی طرف بلائیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل آپ پر کیسے نازل ہوتے ہیں۔بہت سی دعائیں انسان کر کر کے تھک جاتا ہے قبول نہیں ہو رہی ہوتی اور آدمی شکوے کرتا ہے میری تو قبول نہیں ہوئی۔بات یہ ہے کہ عبادت کرنے والے کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ بھی خاص حکمتوں کے ساتھ جو سچی عبادت کرنے والا ہو اؤل تو اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں، دوسرے اگر جو نہیں ہوتیں اُن پر اللہ تعالیٰ صبر دیتا ہے اور کبھی ایسا شخص خدا پر شکوہ زبان پر نہیں لاتا۔پس تمام خرابیوں کا ایک ہی حل ہے، تمام بیماریوں کا ایک ہی دوا ہے اور وہ عبادت پر قائم ہو جاتا ہے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ جن نوجوانوں تک میری آواز پہنچ رہی ہے کہ جن بڑوں تک چھوٹوں تک میری یہ آواز پہنچ رہی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ عبادتیں میں کمزور ہیں وہ آج ہی یہ عہد کر کے اٹھیں کہ انشاء اللہ عبادت کو قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔اپنی ذات میں بھی اور غیروں میں بھی