خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد ۱۱ 648 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء سے بدظن اور مذہب سے دور کیا جاتا ہے اور کوئی روک ٹوک نہیں۔جو زیادہ آزاد خیال ہو اور بے حیا ہو ، خدا کے خلاف باتیں کرنے والا ہو، وہ سوسائٹی میں زیادہ روشن خیال سمجھا جاتا ہے۔گویا اندھوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی آنکھیں ہیں، جن کی آنکھیں ہیں اُن کو اندھا بتایا جاتا ہے۔ایسی حالت میں نماز ہی ہے جو آپ کی اور آپ کے بچوں کی حفاظت کرے گی۔نماز پر قائم نہ کیا تو آپ کی بچیاں آپ کے سامنے دیکھتے دیکھتے ضائع ہو کر اس غالب معاشرے کا شکار ہو جائیں گی اور بہت بڑا نقصان ہے۔زیادہ تر پاکستان سے ہجرت کرنے والے احمدیوں کو شکایت یہی ہے کہ ہمیں کھلم کھلا عبادت کی اجازت نہیں اور یہ ایک ایسا حق ہے جسے دنیا کی تمام آزاد قوموں نے تسلیم کیا ہے کہ جسمانی طور پر خواہ کوئی مارے پیٹے یا نہ مارے پیٹے اگر کسی قوم کو خدا کی عبادت کے حق سے جبر امحروم کیا جائے تو یہ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ قوم دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کا حق حاصل کر لیتی ہے لیکن اگر پناہ لینے والا وہاں بھی بے نمازی ہو اور یہاں بھی بے نمازی رہے تو کس چیز سے پناہ مانگی۔ایک شیطان سے دوسرے شیطان کی طرف پناہ لی نا کسی شیطان سے خدا کی طرف پناہ لینے کے لئے تو نہ آئے۔پس وہ لوگ جو پاکستان سے ہجرت کر کے آتے ہیں اور پھر وہاں بھی بے نماز رہتے ہیں اور یہاں بھی بے نماز رہتے ہیں کبھی اُن کے دل نے اُن کو جھنجھوڑ نہیں۔کہاں سے بھاگے تھے کدھر بھاگے تھے؟ مومن اور غیر مومن کے درمیان میں یہی فرق ہوا کرتا ہے۔غیر مومن اگر شیطان سے بھاگتا ہے تو شیطان کی طرف ہی بھاگتا ہے اور مومن اگر خدا کی تقدیر سے بھاگتا ہے تو خدا کی تقدیر کی طرف ہی بھاگتا ہے۔اس نکتہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی شان کے ساتھ بیان فرمایا۔ایک دفعہ ایک اسلامی لشکر آپ کی قیادت میں کسی جگہ پڑاؤ کئے ہوئے تھا اور وہاں ایک خبر مشہور ہوئی کہ یہاں ایک خوفناک پلیگ پھیلی ہوئی ہے، ایک قسم کی طاعون ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں کو اپنا شکار بناتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُسی وقت فیصلہ لیا کہ فوراً اس جگہ سے کوچ کر جاؤ اور دوسرے محفوظ صحت مند علاقے کی طرف چلو۔آپ کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا۔اے امیر المؤمنین ! کیا آپ خدا کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ اپنی طرف سے بڑی طاقت کے ساتھ ، بڑے زور سے