خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 590

خطبات طاہر جلد ۱۱ 590 خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۹۲ء اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پر ہیز کرو۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ ( الحج : ۳۱) بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔۔۔۔یعنی خدا تعالیٰ نے بت پرستی کے ساتھ جھوٹ کو ملایا ہے۔وو۔۔۔جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بت بناتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی۔جیسے ایک بُت پرست بہت سے نجات چاہتا ہے۔۔۔۔یعنی بت کے ذریعہ سے نجات چاہتا ہے۔یہ مراد ہے وو 66۔۔۔جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کیونکر 66 چھوڑ دیں اس کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا۔۔۔آج آپ کسی جگہ پر بات کر کے دیکھ لیں ، ہمیشہ یہی جواب ملے گا کہ ٹھیک ہے۔دنیا میں رہنا ہے اس کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا۔مجبوری ہے یعنی اپنے محبوب کے بغیر کیسے گزارا ہو سکتا ہے۔جس نے جھوٹ کو معبود بنالیا ہو وہ اس بات میں تو سچا ہے کہ اس کا اس بت کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا۔لیکن اس بات میں جھوٹا ہے کہ انجام کا روہ اُس کے کسی کام آئے گا۔جھوٹ کا بت ہمیشہ دعا کرتا ہے انجام کارضر ور نقصان پہنچاتا ہے فرمایا۔۔۔۔اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ جھوٹ پر اپنامدار سمجھتے ہیں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔“ ( ملفوظات جلد نمبر ۴ صفحه : ۶۳۶) پھر فرماتے ہیں ” خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا۔وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا