خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 581
خطبات طاہر جلدا 581 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء نظر آئے تو سو دوسرے بہانے ڈھونڈتا ہے اُس بات کو نہ ماننے کے کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے، یہ بھی تو ہوسکتا ہے۔پس آنحضرت یا اللہ نے جھوٹ کی یہ قسم بھی بیان فرما کر ہم پر بے حد احسان فرمایا کہ بدظنی ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اس سے بچو، اس سے بچو گے تو معاشرہ تمہارے شر سے بچ جائے گا اور معاشرہ امن میں آجائے گا، اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو، اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو،حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو بے رخی نہ برتو۔اب یہ ساری چیزیں بظاہر الگ الگ ہیں لیکن ان کی بنیا دایک ہی بات میں ہے کہ کسی شخص سے محبت کی بجائے نفرت ہو نا کسی شخص سے پیار کے تعلق کی بجائے اجنبیت کا تعلق یا دوری کا تعلق یا دشمنی کا تعلق ہونا۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا حال بیان کیا ہے کہ جب مسلمانوں کو کوئی فتح ملتی ہے اور ان کو غنیمت ہاتھ آتی ہے تو اُن کو بہت تکلیف پہنچتی ہے اور اس تکلیف کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ کاش! ہم بھی وہاں ہوتے تو ہم بھی حصہ پاتے اور جب اُن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں شکر ہے ہم وہاں نہیں تھے ورنہ ہمیں بھی تکلیف پہنچ جاتی۔تو بنیادی طور پر دراصل یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ ایک دوسرے سے تعلق قائم کرو، ایک دوسرے کا بھائی بننے کی کوشش کرو ، مومن ایک دوسرے کے اخو ہ ہوتے ہیں اور جو شخص سمجھتا ہے کہ یہ مومن میرے بھائی ہیں اگر یہ سمجھنے کے باوجود یہ باتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو اس کا بھائی ہونے کا تصور جھوٹا ہے۔یہ بیماریوں کی علامتیں ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہیں اور ان علامتوں کو ظاہر و باہر کر کے حضرت اقدس محمد مصطفے میں لے نے ان بیماریوں کو پہنچانے کا ایک عظیم نسخہ ہمیں عطا فرما دیا۔اب دیکھ لیجئے جو بدظنی کرتا ہے وہ اس پر بدظنی نہیں کیا کرتا جس سے پیار ہو محبت ہو جو کسی کی عیب جوئی کرتا ہے برائیوں کی تلاش میں رہتا ہے اگر محبت اور پیار ہو بھی ایسا نہیں کرسکتا۔اچھی چیز ہتھیانے کے لئے اپنے پیارے سے متعلق خیال بھی پیدا نہیں ہوسکتا، جتنا پیار بڑھے اتنا دل یہ چاہتا ہے کہ جو چیز مجھے اچھی ملی ہے میں اس کو دے دوں اور جو بھی چیز خود کو نصیب ہو رہی ہو اور اپنے پیارے کے پاس نہ ہو تو بعض دفعہ وہ اچھی چیز بری لگنے لگ جاتی ہے۔اس سے انسان کو خوشی کے بجائے تکلیف ہوتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کے متعلق روایت ہے کہ جب آنحضور ﷺ کے وصال کے بعد باہر سے اعلی قسم کی چکیاں آئیں اور بہت ہی عمدہ آتا جب پہلی دفعہ ان چکیوں سے نکلا تو حضرت عائشہ صدیقہ کے