خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 570
خطبات طاہر جلدا 570 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء تھا اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی ایک زندہ گواہ تھیں جو آخری دم تک گواہ رہیں اور آئندہ آپ کی یادیں ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی گواہ رہیں گی۔جس کی بیوی اپنے خاوند کی تربیت میں ایسی ہوچکی ہو اس کا خاوند کتنا سچا ہوگا کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خاوند جھوٹا ہواور بیوی اُس کی ہم مزاج ہو اس کی مؤید ہو اور پھر جھوٹی نہ ہوا گر خاوند جھوٹا ہو اور بیوی اس کی تائید کرتی ہے اُس کی باتوں کو سچا کہتی ہے تو لا ز مادہ جھوٹی ہے اور اگر وہ سچی ہے تو ناممکن ہے کہ خاوند جھوٹا ہو۔پس ایسا مزاج پیدا کریں کہ مزاج میں سچ داخل ہو جائے ایسا مزاج پیدا کریں کہ مزاج میں جھوٹ سے نفرت ہو جائے۔یہاں تک کہ خاوند اپنی بیویوں کے حق میں گواہی دے کہ وہ صدیقہ ہیں اور بیویاں اپنے خاوندوں کے حق میں گواہی دیں کہ وہ صدیق تھے۔ایسے ہی لوگوں کی نسلوں میں پھر سچائی پیدا ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ساری اولاد میں ( یہی وجہ سے یہ مراد نہیں کہ صرف اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وجہ سے بلکہ والدین کی طرف سے جو ورثہ آیا ہے اس میں ) سب سے زیادہ نمایاں کردار یہی تھا کہ جھوٹ برداشت نہیں تھا۔بعض نسبتاً زیادہ متحمل تھے۔وہ نرمی سے ، عفو اور درگزر سے کام لیتے لیکن جھوٹ سے اپنی نفرت کو ظاہر کرتے تھے لیکن بعض دفعہ کھل کر اور بعض دفعہ بڑی سختی سے جیسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ جھوٹ برداشت ہی نہیں تھا۔کسی بچے سے معمولی سا جھوٹ بھی ظاہر ہو تو بعض دفعہ بھڑک اُٹھتے تھے، بعض دفعہ سخت سزا دیتے تھے، بعض دفعہ سخت الفاظ استعمال فرماتے تھے۔دل کے علیم تھے لیکن زبان سے بعض دفعہ بھی بھی ظاہر ہوتی تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جو آپ کے چھوٹے بھائی تھے اُن سے تب ہی کسی نے شکایت کی کہ الہام میں تو ہے کہ دل کا حلیم ہوگا مگر دیکھیں حضرت صاحب مجھ پر کتنا ناراض ہوئے تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے مسکرا کر فرمایا سو چو تو سہی اسے دل کا حلیم کہا گیا ہے آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ ناراض ہوتے ہیں تو خود دل اندر سے کٹ رہا ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد ایسی دلداری کرتے ہیں کہ ناراضگی کے سارے غم بھول جاتے ہیں تو جو دل کے علیم تھے وہ زبان پر جھوٹ کے خلاف سخت الفاظ بھی استعمال کرتے تھے۔جو زبان کے بھی حلیم تھے وہ نفرت تو کرتے تھے مگر اس طرح کھل کر اپنی نفرت کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے مگر دیکھنے والے کو سمجھ آجاتی تھی کہ اس کی