خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد ۱۱ 51 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء گیا تو انہوں نے کہا نہیں۔ہم تو یہیں رہیں گے ، اسی مسجد میں رہیں گے۔ایک صحابی نے رسول اللہ سے گزارش کی کہ یارسول اللہ! ان کو حکم دیں کہ یہ بھی باہر نکل کر کام کریں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ان کا حال معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ سے سوال کیا گیا کہ تم کیوں نہیں با ہر نکلتے تو انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میری بہت سی عمر، عمر کا ایک بڑا حصہ جہالت میں ضائع ہو گیا۔اب زندگی کے باقی دن ہیں، میں نہیں چاہتا کہ ایک لمحہ بھی ایسا آئے کہ آنحضرت ﷺ باہر تشریف لائیں اور میں دیکھ نہ سکوں یا آپ کی باتیں نہ سن سکوں تو یہ محبت کے قیدی تھے۔اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ سے مراد یہ ہے کہ بہت اعلیٰ مقصد کے لئے اللہ کی راہ میں خود قیدی بن کر بیٹھ رہے تھے ورنہ جس طرح مدینہ میں بسنے والے باقی انصار اور مہاجرین کے لئے زمین کھلی تھی اور وہ اپنی کمائی کی خاطر جب چاہیں جہاں چاہیں جا سکتے تھے اس طرح ان پر بھی تو کوئی قید نہیں تھی۔یہ جو مضمون ہے یہ اس زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ قادیان کے احمدی باشندوں پر صادق آتا ہے۔ان کے متعلق بھی جو مضمون میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ غربت اور تنگی اور مشکلات کا دور گزرا ہے یہ جسمانی قید تو کوئی نہیں تھی کہ جس کے نتیجہ میں وہ ان مشکلات کے دور میں سے گزرے اور آج تک گزر رہے ہیں بلکہ محض ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر خود اپنے آپ کو انہوں نے محصور کر رکھا ہے اور وہ مقامات مقدسہ کی حفاظت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الدار کی حفاظت ہے اور قادیان کی مقدس بستی کو ہمیشہ آبا در رکھنے کا عزم ہے۔پس ایک اصحاب الصفہ وہ تھے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں تھے۔کچھ وہ تھے جو مدینہ میں بستے تھے۔محمد رسول اللہ ان کو پہچانتے تھے اور باقی سب کو دکھائی نہیں بھی دیتے تھے کیونکہ وہ سائل نہیں تھے، مانگنے کے عادی نہیں تھے۔عزت دار لوگ تھے اور ایک وہ بھی ہیں جو آخرین میں پیدا ہوئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں پیدا ہوئے اور وہ اصحاب الصفہ خاص طور پر آج قادیان میں بسنے والے درویش ہیں۔درویش کی اصطلاح تو اب انہوں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر لی ہے جو قادیان سے ہجرت کے دوران وہاں ٹھہرے تھے لیکن میں جب درویش کہتا ہوں تو مراد یہ ہے کہ وہ سارے جو قادیان کی عزت