خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد ۱۱ 50 50 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء ضرورتوں کو دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا۔پس اصحاب الصفہ تو اپنے حالات کی وجہ سے ظاہر ہو کر سامنے آچکے تھے کچھ آیات کا مضمون اُن پر ان معنوں میں ضرور صادق آتا ہے کہ شدید غربت کے باوجود ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے اور فاقوں کے باوجود کسی سے مانگتے نہیں تھے۔- حضرت ابو ہریرہ کی وہ روایت بار ہا آپ نے سنی ہوگی اور بار ہاسنائی بھی جائے تو وہ کبھی پرانی نہیں ہوتی کہ ایک دفعہ فاقوں سے بے ہوش ہو گئے اور لوگ سمجھے کہ مرگی کا دورہ ہے چنانچہ جوتیاں سنگھانے لگے۔بعض روایات میں آیا ہے کہ ان کو ہوش میں لانے کے لئے تھپڑ بھی مارے گئے اور لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا دورہ ہے حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ میں فاقوں کی وجہ سے بے ہوش ہوا تھا۔تو جن کی یہ کیفیت ہے ان کا خواہ وہ اصحاب الصفہ میں تھے یا باہر تھے۔اس وقت تھے یا آئندہ آنے والے تھے ان سب پر ان آیات کا مضمون اطلاق پاتا ہے۔پھر فرمایا : أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ان کا باہر جانا ممکن نہیں تھا۔بعض مفسرین مثلاً قرطبی نے یہ لکھا ہے کہ مراد یہ تھی کہ وہ روزی کمانے کے لئے باہر نہیں جاسکتے تھے کیونکہ اردگرد حالات خراب تھے۔یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ اصحاب صفہ کے علاوہ اور مسلمان بھی سارے مدینہ میں بس رہے تھے۔وہ جب باہر جاسکتے تھے اور کما سکتے تھے تو صرف اصحاب الصفہ پر ہی کیا قیامت آپڑی تھی کہ وہ باہر نہیں جاسکتے تھے ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ جسمانی لحاظ سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے کیونکہ ایک اور روایت بھی اس تفسیر کو غلط قرار دیتی ہے جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی کہ جو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ بہتر ہے۔جس کو دیا جائے اس کی نسبت جو ہاتھ دینے والا ہے وہ بہتر ہے اس قسم کی نصائح کے اثر کے نتیجہ میں اصحاب الصفہ کے متعلق آتا ہے کہ یہ جنگلوں میں لکڑیاں کاٹنے کے لئے چلے جایا کرتے تھے اور جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور وہاں بیچ کر جو کچھ ملتا خود غربت کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے تو اس لئے یہ خیال کہ باہر کا ماحول ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یہ درست نہیں ہے۔ان پر کچھ اور قیود تھیں اور وہ قیود حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کی قیود تھیں۔یہ آنحضرت کا دامن چھوڑ کر باہر جانا نہیں چاہتے تھے۔بعض روایات میں آتا ہے کہ ان سے سوال کیا