خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 542
خطبات طاہر جلدا 542 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء کچھ نہ کچھ اپنی طرف سے یہاں لگانا ضروری ہے۔بظاہر یہ ذاتی منفعت کے لئے نہیں ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اس میں تو کوئی ایسا جھوٹ نہیں ہے۔یہ تو مجلس کا دل لگانے کی خاطر میں نے کیا لیکن اگر بار یک نظر سے دیکھیں تو اس میں ذاتی منفعت ہی کارفرما ہوتی ہے۔ایک شخص جب بات کرے جس میں لذت پیدا نہ ہوتو وہ نفسیاتی لحاظ سے الجھن محسوس کرتا ہے، سمجھتا ہے میر اوہ مقام قائم نہیں ہوا، میرا وہ رُعب قائم نہیں ہوا، میں نے مجلس کے دل نہیں جیتے اس لئے سچ سے نہیں جیتے جاسکتے تو جھوٹ سے ہی سہی۔وہ پھر غلط بات کا اضافہ کر دیتا ہے۔وہ جو اپنے آباؤ اجداد کے متعلق باتیں بیان کرتے ہیں یہی مقصد ہوا کرتا ہے کہ آبا ؤ اجداد میں خوبیاں نہ ہوں تو ہم بنالیتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ ان کی بڑھائی ہماری طرف بھی منتقل ہو۔تو ہر جھوٹ کا ایک مقصد ہے اور بغیر مقصد کوئی جھوٹ نہیں بولا کرتا۔لغو باتیں جھوٹ کا عنصر رکھتی ہیں۔لغو باتوں میں بھی ایک ذاتی منفعت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور انسان ایک دوسرے پر چالا کیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے اور زیادہ چالاک اور زیادہ ہوشیار بن کرلوگوں پر ظاہر ہونا چاہتا ہے۔جھوٹ کی ایک قسم ہے بہانے بنانا اور یہ بھی روزمرہ کی زندگی میں ملتی ہے اور بسا اوقات انسان کو جو سچ بولنے والا بھی ہو اس کو بھی محسوس نہیں ہوتا کہ میرا پہلا رد عمل ہے کیا۔ایک شخص کسی ایسی حرکت میں پکڑا جاتا ہے جس سے اس کو خجالت ہوتی ہے، شرمندگی ہوتی ہے اور فوری طور پر اس کا نفس اس کے سامنے عذر گھڑ کے پیش کر دیتا ہے یہ کہہ دو، اس طرح اس کی توجیہہ کرو۔ایک غلطی ہوگئی معمولی سی غلطی ہے کوئی سزا بھی اس کی نہیں ملتی لیکن انسان کا نفس اتنا اپنی عزت کا تحفظ کرتا ہے کہ جھوٹے بہانے کے ذریعے بھی تحفظ حاصل ہے تو وہ ضرور دے گا۔چنانچہ ایک غلطی ہوئی اور فور دل نے بہانہ گھڑ لیا۔اتنا بہانہ جو ہے انسان کا نفس کہ آپ روزمرہ کی باتوں میں غور کریں تو کسی موقع پر آپ نے کیا بات کیوں کہی تھی؟ آپ حیران ہو جائیں گے کہ لاعلمی میں آپ جھوٹے بہانے بناتے رہے۔کاموں کے دوران انتظامی معاملات میں میں نے بسا اوقات دیکھا ہے کہ کسی سے پوچھا جائے کہ میاں یہ کام یوں کیوں ہو گیا ہے؟ تو پہلا رد عمل اس کا بہانہ بنانے کا ہوتا ہے بہت کم ایسے صاف گو ہیں جن کو قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میری غلطی میری طرف منسوب ہوگی اور اس سے بچنے کا میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں اس کے باوجود وہ کھل کر صاف کہتے ہیں ہاں یہ میری غلطی ہے