خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 536

خطبات طاہر جلدا 536 خطبه جمعه ۷۷اگست ۱۹۹۲ء اٹھانے کیلئے بھی کچھ مزاج کی پاکیزگی اور لطافت ہونی ضروری ہے لیکن اُن پر عمل کرنے کیلئے بہت زیادہ گہری لطافت اور گہری سوچ کی ضرورت ہے۔جسے عام طور پر عوام الناس نہیں سمجھ سکتے یا اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ صلاحیتیں عطا نہیں ہوتیں کہ اُن بار یک باتوں کو سمجھ سکیں مگر قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو ہر چھوٹے بڑے کے لئے ہے۔اس میں نہایت لطیف مضامین بھی ہیں جو نہایت اعلیٰ درجے کی سوچ اور فہم کا تقاضا کرتے ہیں اور سادہ اور کھلے کھلے مضامین بھی ہیں اسی لئے اس کتاب کو چھپی ہوئی کتاب بھی فرمایا گیا اور کھلی کھلی کتاب بھی فرمایا گیا۔یہی حال حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی خوبیوں کا ہے۔ایک عام بالکل سادہ ان پڑھ انسان دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو وہ آپ کی خوبیوں سے اس حد تک آگاہ ہو جاتا ہے کہ بے اختیار اس کا دل آپ کی محبت میں اچھلنے لگتا ہے لیکن یہ کہنا کہ میں نے حضرت محمد مصطفی امیہ کے حسن کو پالیا ہے اور پورے عرفان کے ساتھ میں آپ پر عاشق ہوا ہوں یہ بہت بڑی بڑ ہے سوائے اس کے کہ اللہ کسی کو واقعۂ نور عطا فرمائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جن آنکھوں سے حضور اکرم ﷺ کو دیکھا ان آنکھوں کو نور عطا کیا گیا تھا جو حضور اکرم ﷺ کے نور کی نہایت اعلیٰ پاکیزہ لطافتوں کو شناخت کر سکتا تھا اس لئے قرآن کی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ایک کھلی کھلی کتاب بھی ہیں اور ایک چھپی ہوئی کتاب بھی ہیں۔تو جب توحید کا مضمون بیان ہو تو اس کے پیچ در پیچ باریک معارف کا بیان بھی ضروری ہے اور ایسی کھلی باتیں بھی بتانی ضروری ہیں جو ہر سطح کے انسان کی سمجھ میں آسکیں اور وہ اس کے مضامین سے استفادہ کر سکے۔پس میں نے یہ آج کے خطبہ کے لئے جو موضوع چنا ہے کہ کون کون سی چیزیں جن سے تبتل اختیار کیا جاتا ہے اور توحید کی طرف سفر کے لئے کن کن چیزوں کا چھوڑ نا ضروری ہے۔ان میں سب سے پہلے جھوٹ ہے۔تمام برائیوں کی جڑ سب سے بڑا وہ گناہ جو قرآن کریم کے نزدیک شرک کا درجہ رکھتا ہے اور جسے نجاست قرار دیا گیا ہے اور یہ ایسا گناہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے اور ایک ایسا گناہ ہے جس کو بچے بھی لاعلمی میں اختیار کر جاتے ہیں اور جس سے بچنے کیلئے بہت بار یک در باریک راہ سے نیچے اترنا پڑتا ہے۔پس اس مضمون کو سمجھانے کیلئے میں آج انشاء اللہ تعالیٰ پوری کوشش کروں گا اور اگر آج یہ مضمون ختم نہ ہوا تو اگلے خطبے میں اسی کو جاری رکھا جائے گا۔