خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد ۱۱ 516 خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۹۲ء تکلیفیں اٹھا کر رضائے باری تعالیٰ کے حصول کے لئے یہاں آئے ہیں اور اس پہلو سے جلسہ سالانہ یو کے جماعت احمدیہ کو ایک خصوصی امتیاز حاصل ہے جس کی دوسری کوئی مثال مغرب میں منعقد ہونے والے نہ جلسوں کو ہے اور نہ جلسوں میں ملتی ہے، نہ میلوں ٹھیلوں میں ملتی ہے۔جس کی غرض سے ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں کہ محض اللہ کی رضا کی خاطر مل بیٹھیں ، خدا کی اور خدا کے رسول ﷺ کی باتیں سنیں۔اپنے دلوں کے گندوں کو جو طبعا جلتے رہتے ہیں۔اس موقع پر دھوئیں اور صاف کریں اور خدا تعالیٰ کے پیار کے نئے جذبے لے کر اور خدا تعالیٰ کی محبت کے نئے جلوے دیکھ کر واپس اپنے اپنے وطن کو لوٹیں۔اس اجتماع کے کچھ تقاضے ہیں جن کی طرف میں مختصراً آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جہاں کثرت سے لوگ اکٹھے ہوں وہاں کئی قسم کے احتمالات بھی ہوتے ہیں اور کئی قسم کی ذمہ داریاں ہیں جو عام حالات سے کچھ مختلف ہوتی ہیں۔توقعات کے معیار بھی بلند ہو جاتے ہیں اور عام حالات میں ایک انسان کو ایک معمولی لغزش کرتے ہوئے انسان دیکھے تو اُسے نظر انداز بھی کر دیتا ہے لیکن جب خالصہ دینی اجتماعات میں اکٹھے ہونے والوں سے کسی سے کوئی لغزش دیکھتا ہے تو بعض دفعہ کمزور کو ٹھوکر لگ جاتی ہے اس لئے عام حالات میں جن اخلاق اور جن عادات کا آپ طبعا مظاہرہ کرتے ہیں یہاں اس موقع پر اُن آداب اور اُن اخلاق کا معیار کوشش کر کے زیادہ بلند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کو غیروں کی نگاہیں بھی دیکھ رہی ہیں اپنوں کی نگاہیں بھی دیکھ رہی ہیں۔غیروں میں بھی مختلف مزاج کے لوگ ہیں اور اپنوں میں بھی مختلف مزاج کے لوگ ہیں۔تکلف منع ہے لیکن اگر خدا کی خاطر تکلف کیا جائے تو تکلف بھی اچھا لگتا ہے۔پس کوشش کر کے اگر نیکی اختیار کی جائے تو اس تکلف میں کوئی بُرائی نہیں۔ہاں دکھاوے کی خاطر دنیا سے داد تحسین لینے کی خاطر اگر کوئی نیکی اختیار کی جائے تو وہ نیکی بدی سے بھی بدتر ہو جاتی ہے کیونکہ نیکی کے نام پر خدا کو راضی کرنے کی بجائے بنی نوع انسان کو راضی کرنا مقصود ہوتا ہے۔پس یہ عام بدیوں سے بڑھ کر شرک کی حد میں داخل ہو جاتی ہے۔پس میں جب یہ کہتا ہوں کہ تکلف سے بھی نیکی کریں اور اپنے اعمال کی پہلے سے بڑھ کر نگرانی کریں، اپنے روزمرہ کے اخلاق کا معیار پہلے سے بلند تر کریں تو دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ خدا