خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 503
خطبات طاہر جلد ۱۱ 503 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء زیادہ بھاری ہے آپ سے نہیں اُٹھے گا۔فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں مجھے یہاں نیچے زیادہ آرام معلوم ہوتا ہے۔مجھے پیاس لگی تھی میں نے گھڑے کی طرف دیکھا وہاں پانی پینے کے لئے کوئی برتن نہیں تھا آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے؟ میں پانی پینے کے لئے برتن لاتا ہوں۔نیچے زنانے میں جا کر آپ گلاس لے کر آئے۔پھر فرمایا ذرا ٹھہریئے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بو تلمیں شربت کی لے آئے جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔66 مجھے خیال آیا کہ شاید وہی دو مہمان ہیں جنہوں نے اپنے اظہار محبت کے بیان کی خاطر جا کر دو بوتلیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی میٹھی مہمان نوازی کی یاد میں بھیجی ہوں گی۔فرمایا۔۔۔ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے کیونکہ ہم نے نیت کی " 66 تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر خود پئیں گے آج مجھے یاد آ گیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا میں نے کہا حضور پہلے اس میں سے تھوڑا پی لیں تو میں پھر پیوں گا آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔۔۔۔جو پہلی بات تھی اس میں بھی تکلف نہیں تھا۔اگر تکلف ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زور دیتے کہ نہیں میں نے تو اتنی دیر سے سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں پہلے تم پیو پھر میں پیوں گا یہ بھی ایک مصنوعی انداز ہو جاتا۔کیسی صاف پاکیزہ بے تکلف طبیعت تھی۔اپنے اس مدت کے ارادے کو ایک طرف کر دیا اور مہمان کی دلداری کی خاطر جو تبرک چاہتا تھا آپ نے پہلے پی لیا تو گویا پہلے بھی مہمان کی دلداری مقصود تھی اپنی بڑائی مقصود نہیں تھی۔پس جب مہمان ہی نے تقاضا کیا کہ پہلے آپ پی لیں تو آپ نے بے تکلف پہلے پی لیا۔فرماتے ہیں۔۔۔۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا اور میں نے پی لیا میں نے شربت کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں آپ نے ان دونوں بوتلوں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہو گا۔۔۔۔(اصحاب احمد جلد چہارم صفحه : ۱۶۸) ”ایک دفعہ بڑی رات گئے ایک مہمان آ گیا۔کوئی چار پائی خالی نہ تھی