خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 502
خطبات طاہر جلدا 502 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء نے چونکہ مہمان سے بدخلقی کی ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اب ان پر برسیں اور اتنا ذلیل اور خوار کریں، ایسی گالیاں دیں ، ایسی سزائیں دیں کہ ان کو سمجھ آجائے کہ آئندہ مہمان سے کیسے سلوک کیا جاتا ہے۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سمجھانے کا انداز تھا ان کو پوچھا بھی نہیں۔یہ بھی پتا نہیں کیا کہ وہ کون لوگ تھے ؟ جنہوں نے ایسی بات کی۔خود روانہ ہوئے ، خود سامان اُتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے ، خودان کے کھانے کا انتظام کیا اور جب سب سیر ہو گئے اور طبیعتیں بھر گئیں اور اطمینان نصیب ہو گیا تب بغیر ان کا نام لئے ایک عمومی نصیحت فرما کر لوگوں کو ایک اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم دی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا بیان ہے کہ ” غالبًا ۱۸۹۷ ء یا ۱۸۹۸ء کا واقعہ ہوگا مجھے حضرت صاحب نے بیت مبارک میں بٹھایا جو کہ اسوقت ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔“ (ذکر حبیب صفحہ ۴۵) اب تو آپ میں بہت سے قادیان سے ہو آئے ہیں ،جلسہ دیکھ آئے ہیں اللہ کے فضل سے مسجد مبارک بہت بڑی ہو گئی ہے۔اس وقت ایک چھوٹے حجرے کے، ایک چھوٹے سے کمرے کے برابر تھی۔حجرہ نہیں لیکن کچھ بڑا کمرہ سمجھ لیجئے۔فرمایا: "آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں۔یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے میرا خیال تھا کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے مگر چند منٹ کے بعد جبکہ کھڑ کی کھلی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے سینی اُٹھائے ہوئے میرے لئے کھانا لائے ہیں مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے میں پانی لاتا ہوں۔بے اختیار رقت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتداء ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی کس قدر خدمت کرنی چاہئے۔(ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۳۲۷) یہ کیسا اچھا نتیجہ حضرت مفتی محمد صادق نے نکالا یہی نتیجہ آج ہم سب کو نکالنا چاہئے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔حضور بوریئے پر بیٹھے ہوئے تھے۔مجھے دیکھ کر پلنگ اُٹھا لائے میں نے اُٹھانا چاہا تو حضور نے فرمایا یہ