خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 467

خطبات طاہر جلدا 467 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء خلاف کوئی تحریک چلائی گئی تو اس کے بعد اگلی تحریک سے پہلے لاکھوں میں پہنچ گئے اور لاکھوں میں جو چندے ہوتے تھے جب ایک اور تحریک چلائی گئی تو کروڑوں میں پہنچ گئے۔چنانچہ میں نے یہ دعا کی تھی اور جماعت کو کہا تھا کہ اس دعا میں میرے ساتھ شریک ہوں کہ خدا کرے ہمارے دیکھتے دیکھتے اب یہ کروڑ اربوں میں بدل جائیں تو جب میں نے یہ تحریک کی تھی اس وقت چند کروڑ بھی چندے نہیں تھے۔میں اعداد و شمار نکال کر انشاء اللہ جلسہ پر بیان کروں گا لیکن آج خدا کے فضل سے قریباً نصف ارب تک معاملہ پہنچ چکا ہے اور یہ جو اعداد و شمار ہیں یہ ساری دنیا کی جماعتوں کے نہیں ہیں۔دنیا کی جماعتوں میں یہ 44 بڑی جماعتوں کے ہیں اور باقی دنیا میں جماعتیں پھیل رہی ہیں، کثرت کے ساتھ شامل ہو رہی ہیں۔بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جہاں ابھی چندے کا نظام مستحکم نہیں ہوا۔بعض تعداد میں تھوڑی ہیں بعض غربت کی وجہ سے قربانیوں میں زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتی لیکن 126 ممالک نے بہر حال آپ کے ساتھ شامل ہونا ہے۔وہ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں ، بڑھ رہے ہیں ، پھیل رہے ہیں۔چندے کا نظام رفتہ رفتہ ان میں داخل ہو رہا ہے مثلاً روس کی ریاستیں ہیں جنہیں USSR کہنا چاہئے ان میں اب جہاں خدا کے فضل سے احمدی جماعتیں قائم ہوئی ہیں انہوں نے کچھ نہ کچھ چندہ دینا شروع کر دیا ہے۔تو یہ سب لوگ آخر آپ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ہمیں اول یہ دعا کرنی چاہئے کہ جیسا کہ میں نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ خدا اب جلد ہماری جماعت کو کروڑوں کی بجائے اربوں کے بجٹ عطا کرے اور دوسرا یہ کہ مالی قربانی جتنی بڑھے اس کی شان وہی رہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ ربوة پر ہو، خدا کے نزدیک بلند مرتبہ قربانیاں ہوں۔ایسی قربانیاں ہوں جن کو کوئی ابتلاء نقصان نہ پہنچا سکے ، نہ موسلا دھار بارش نقصان پہنچا سکے، نہ خشک سالی نقصان پہنچا سکے۔ہر حالت میں وہ تر و تازہ رہیں اور نئے نئے پھل دیتی رہیں اور پھر ان سے خدا کا سلوک وہی ہو جو پچھلوں کی قربانیوں سے ہوا تھا۔جن بزرگوں کی قربانیوں نے وہ منزل بنائی ہے جس پر ہم آج کھڑے ہیں۔خدا کرے کہ ہماری قربانیاں اسی نسبت سے خدا کی راہ میں ایک اور اونچی منزل بنا دیں اور آئندہ نسلیں ہمارا ذکر اس طرح محبت اور پیار اور دعاؤں کے ساتھ کیا کریں جس طرح ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھیوں اور غلاموں کا ذکر محبت اور پیار اور دعاؤں کے ساتھ کرتے ہیں۔